مرکزی وزیر قتل کے مجرم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے مرکزی وزیر شیبو سورین کو دلی کی ایک عدالت نے انکے پرائیوٹ سکریٹری کے اغواء اور قتل کی سازش میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیا ہے۔ عدالت کے فیصلے کے بعد شیبو سورین کو تہاڑ جیل بھیج دیا گیا ہے۔ فیصلے کے وقت مسٹر کوئلے کے مرکزی وزیر اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے رہنما شیبو سورین عدالت میں موجود تھے۔ فیصلے کے بعد پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا اور انہيں تہاڑ جیل بھیج دیا گیا ہے۔ بعد میں انکی صحت خراب ہونے کے سبب انہيں اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ مسٹر سورین کے پرائیوٹ سکریٹری کے قتل کا واقعہ 12 برس قبل رونما ہوا تھا اور مرکزي تفتیشی بیورو اس واقعہ کو کانگریس پارٹی سے ایک مبینہ سودے بازی سے جوڑ کر دیکھ رہی ہے۔ اس وقت نرسمہا راؤ کی اقلیتی حکومت نے پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے شیو سورین کی پارٹی سے معاہدہ کیا تھا جس کے تحت جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ارکان نے مسٹر راؤ کی حمایت کی جس کے نتیجے میں ان کی حکومت بچ گئی تھی۔ مسٹر سورین پر مسٹر راؤ کی حکومت کی حمایت کرنے کے لئے لاکھوں روپے حاصل کرنے کے الزام میں مقدمہ بھی چل چکا ہے لیکن وہ اس معاملے میں بری ہو گئے تھے۔ پرائیوٹ سیکریٹری کے قتل کے معاملے میں مسٹر سورین کے ساتھ چار دیگر افراد کو بھی قصوروار پایا گیا ہے۔ مسٹر سورین کو اغواء اور قتل کی سازش دونوں ہی معاملوں میں قصوروار قرار دیا گیا ہے جس کی سزا عمر قید سے لیکر سزائے موت تک ہو سکتی ہے۔ عدالت سزا کا تعین تیس نومبر یعنی جمعرات کو کرے گی۔ مسٹر سورین کو اس سے قبل 1980 کی دہائی میں ایک سیاسی احتجاج کے دوران قتل کے ایک دیگر معاملے میں ایک ضمانتی وارنٹ جاری ہونے کے بعد وزارت سے مستعفی ہونا پڑا تھا اور انہیں تقریبا ایک برس قبل کابینہ میں بحال کیا گیا تھا۔ عدالت کا فیصلہ آتے ہی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے مسٹر سورین سے مستعفی ہونے کو کہا۔ | اسی بارے میں شیبو سورین نے استعفیٰ دے دیا24 July, 2004 | انڈیا سورین: ضمانت کی درخواست رد29 July, 2004 | انڈیا شیبو سورین ناکام، ارجن منڈا نامزد11 March, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||