شیبو سورین نے استعفیٰ دے دیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں مرکزی وزیر برائے کوئلہ و کان کنی شیبو سورین نے سنیچر کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دی دیا ہے۔ نئی دہلی میں ان کی پارٹی جھار کھنڈ مورچہ (جے ایم ایم) کے ممبر پارلیمان سنیل کمار ماہاٹو نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ پارٹی کے ایک وفد نے ان کا استعفیٰ وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کو پیش کر دیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے جمعہ کے روز شیبو سورین کا استعفیٰ مانگا تھا۔ واضح رہے کہ شیبو سورین کے خلاف یہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ 1975 میں چلنے والی ایک تحریک سے تعلق کی بنا پر جاری کیا گیا ہے۔ تب شیبو سورین کی قیادت میں قبائیلیوں کا ایک ہجوم تشدد پر اتر آیا تھا جس کے نتیجے میں گیارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں سے نو مسلمان تھے۔ ماہاٹو نے بتایا کہ استعفیٰ غیر مشروط طور پر دیا گیا ہے۔ تاہم شیبو سورین نے ابھی تک اپنے آپ کو پولیس کے حوالے نہیں کیا ہے اور پولیس انہیں تلاش کر رہی ہے۔ حکومت نے گزشتہ منگل کو ایک بیان میں مرکزی وزیر شیبو سورین کا دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ مسٹر سورین کے خلاف کی گئی کارروائي انتقامی اور سیاسی مفاد پر مبنی ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر غلام نبی آزاد کا کہنا تھا کہ 28 برس قبل ہونے والے کیس پر اچانک اس شدت سے کارروائي سیاسی وجوہات کی بنا پر کی جا رہی ہے۔ اسی معاملے پر پارلیمان میں بھی زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی اور حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||