گرفتاری ٹیم دلی میں، وزیر لا پتہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں مرکزی وزیر برائے کوئلہ و کان کنی شیبو سورین کی گرفتاری کیلۓ جھارکھنڈ کی دو ارکان پر مشتمل پولس ٹیم ایک مقامی عدالت کے وارنٹ کے ساتھ دلی پہنچ چکی ہے۔ تاہم شیبو سورین گھر پر نہیں ملے اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہیں؟ ان کی پارٹی کے ارکان کو بھی نہیں معلوم کہ آخر وہ ہیں کہاں؟ جھارکھنڈ کی پولس بدھ کی صبح جب ان کے گھر پہنچی تو وہاں کوئی نہیں تھا اس لیے پولس نے وارنٹ ان کے گھر کے دروزے پر چسپاں کر دیا ہے۔ مسٹر سورین جھارکھنڈ کی نچلی عدالت کے وارنٹ کے خلاف ہائی کورٹ سے حکم امتناع حاصل کرنے کی کوشش کر رہے اور اس سلسلے میں انہوں نے ایک اپیل جھانسی کے ہائی کورٹ میں دائر بھی کر رکھی ہے لیکن اس پر سماعت جمعرات کو ہوگی۔ واضح رہے کہ شیبو سورین کے خلاف یہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ 1975 میں چلنے والی ایک تحریک سے تعلق کی بنا پر جاری کیا گیا ہے۔ تب شیبو سورین کی قیادت میں قبائیلیوں کا ایک ہجوم تشدد پر اتر آیا تھا جس کے نتیجے میں گیارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں سے نو مسلمان تھے۔ حکومت نے منگل کو ایک بیان میں مرکزی وزیر شیبو سورین کا دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ مسٹر سورین کے خلاف کی گئی کارروائي انتقامی اور سیاسی مفاد پر مبنی ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر غلام نبی آزاد کا کہنا تھا کہ 28 برس قبل ہونے والے کیس پر اچانک اس شدت سے کارروائي سیاسی وجوہات کی بنا پر کی جا رہی ہے۔ اسی معاملے پر پارلیمان میں بھی زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی اور حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||