جولائی بم دھماکے، فرد جرم داخل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کے انسداد دہشت گردی سکواڈ نے گیارہ جولائی بم دھماکوں کے ملزمین کے خلاف عدالت میں فرد جرم داخل کر دی ہے۔ اس سلسلے میں مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ ( مکوکا ) کے تحت پولیس نے تیرہ افراد کو گرفتار کیا تھا جواس وقت پولیس حراست میں ہیں۔ پولیس نے اپنے فرد جرم میں اٹھائیس لوگوں کو ملزم قرار دیا ہے اور پاکستانی شہری اعظم چیما کو اہم ملزم بتایاگیا ہے۔ پولیس کے مطابق اعظم چیما ان بم دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ اسکا کہنا ہے کہ دھماکوں کے وقت نو پاکستانی شہری ممبئی میں موجود تھے۔ ان میں سے ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو گیا اور باقی کو پولیس اب تلاش کر رہی ہے۔ پولیس نےاس کیس میں ممبئی سےگرفتار فیصل شیخ اور حیدرآباد سےگرفتار آصف خان عرف جنید کو اہم ملزم قرار دیا ہے۔ ان کے علاوہ گرفتار تیرہ ملزمین اسوقت عدالتی حراست میں ہیں۔ پولیس کے مطابق گوونڈی کے محمد علی نامی شخص کے گھر میں بم بنائے گئے تھے اور پریشر کوکر میں رکھ کر ممبئی کی ویسٹرن لائن ٹرین کے فرسٹ کلاس کمپارٹمنٹ میں رکھے گئے تھے۔ گیارہ جولائی کے سلسلہ وار بم دھماکوں میں تقریبا ایک سو اسی افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ ممبئی پولیس نے ایک لاکھ سے زائد صفحات پر فرد جرم تیار کی ہے جسے وہ پانچ بڑے بیگوں میں رکھ کر عدالت لائے تھے۔ اے ٹی ایس افسر کے مطابق انہوں نے اس کیس میں دوسو سےزائد افراد کو گواہ بنایا ہے۔ کیس درج ہونے کے بعد مکوکا قانون کے تحت نوے دنوں کے اندر فرد جرم داخل کر دی جانی چاہیے۔ لیکن پولیس نے عدالت سے اس کیس میں تاخیر کے لیے خصوصی اجازت طلب کی تھی۔ پولیس کے سامنے اقبالیہ بیان دینے کے بعد اس معاملے کے کئی ملزم عدالت میں اپنے بیان سے منحرف ہو چکے ہیں۔ | اسی بارے میں ٹرین دھماکے، تین افرادگرفتار21 July, 2006 | انڈیا ٹرین دھماکے: تین ملزمان گرفتار 21 July, 2006 | انڈیا ممبئی گرفتاریاں، سچ کیا ہے؟23 July, 2006 | انڈیا ’میرے بیٹے کا دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں‘24 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||