سدھو کو تین سال کی قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے سابق کرکٹر اور رکن پارلیمان نوجوت سنگھ سدھو کو قتل کے جرم میں تین سال کی قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ تاہم عدالت نے جنوری کے اختتام تک سزا کا عمل روک دیا ہے۔اس دوران وہ عدالت کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے نوجوت سنگھ سدھو کوغیرارادی طور پر قتل کرنے کا مجرم قراردیا تھا۔ سدھو پر 1988 میں پٹیالہ میں ایک شخص کو پیٹ کرہلاک کرنے کا الزام تھا۔ سدھونےایک کار پارکنگ میں پارکنگ کے تنازعہ پر بحث و تکرار کے دوران اپنے دوست کے ساتھ مل کر گرنام سنگھ کی پٹائی کی تھی جس کے بعد گرنام سنگھ کی موت ہوگئی تھی۔ عدالت نے انہں غیرارادی طور پر قتل کرنے کا مجرم قرار دیاتھا۔ اسی لیۓ انہیں صرف تین سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس سے قبل 1999میں پٹیالہ کی ایک ذیلی عدالت نے سدھو کو قتل کےاس معاملے میں بری کر دیا تھالیکن مقتول کے خاندان نے2002 میں ہائی کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی۔ قتل کےالزام میں مجرم قرار دیۓ جانے کے بعد سدھو نے پارلیمان کی رکنیت سے استعفٰی دے دیا ہے۔ سدھوامرتسر سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان تھے۔ شبو سورین کے بعد مسٹر سدھو دوسرے رکن پارلیمان ہیں جن کو قتل کےمعاملے میں سزا سنائی گئی ہے۔ | اسی بارے میں شبوسورین کا سیاسی سفر29 November, 2006 | انڈیا شیبو سورین کو عمر قید کی سزا 05 December, 2006 | انڈیا ’شعیب کی کمی محسوس ہوئی‘20 February, 2006 | کھیل قتل کے مجرم سدھو کا استعفیٰ01 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||