شبوسورین کا سیاسی سفر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جھارکھنڈ کی سیاست کے ’گروجی’ شبو سورین زندگی کے سب سے مشکل دور کی گرفت میں آ گۓ ہیں۔ اپنے سیکریٹری ششی ناتھ جھا کے اغوا اور قتل کے معاملے میں دلی کی ایک عدالت کے ذریعہ مجرم قرار دئے گۓ شبو کو جمعرات کے دن سزا سنائے جانے کا امکان ہے۔ اسکے سبب دلی اور رانچی کی سیاست ایک ساتھ گرم ہوگی ہے۔ شبو کے جیل جانے کے بعد عام خیال یہ ہے کہ حزب اختلاف پارلیمان میں لالو پرساد، تسلیم الدین اور جۓ پرکاش یادو پر بھی بدعنوان کے الزامات لگار انکے استعفوں کا بھی مطالبہ کریگی۔ کچھ ماہ پہلے ہی کی بات ہے کہ شبو سورین کو سنہ انیس سو پچہتر میں جامتاڑہ کے چروڈیہ میں متعدد مسلمانوں کے قتل کے معاملے میں گرفتاری کا وارنٹ جاری ہونے کے بعد کوئلے اور کانکنی کی وزارت سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔ اس معاملے میں شبو سورین مرکزی وزیر کی حیثیت سے کئی روز تک روپوش رہے تھے۔ بعد میں چند ماہ جیل میں گزارنے کے بعد وہ ضمانت پر رہا ہوئے تھے اور من موہن سنگھ کی حکومت میں دوبارہ شامل کر لیے گۓ تھے۔ شبو سورین انیس سو ترانوے میں پی وی نرسمہا راو کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے دوران رشوت خوری کے ملزم بھی رہے ہیں۔ مانا یہ جاتا ہے کہ اس معاملے کی پوری جانکاری شبو کے نجی سیکریٹری ششی ناتھ جھا کو تھی اور یہ جانکاری سی بی آئی کو نہ مل جائے اسی لیے انکا قتل کروا دیا گیا۔ ہزاری باغ ضلع کے نیرماگاؤں میں پیدا ہوۓ شبو سورین نے گزشتہ برس مرکزی وزارت سے استعفی دیا تھا اور دو مارچ دو ہزار پانچ میں وہ جھارکھنڈ کے وزیر اعلی نامزد کۓ گۓ تھے۔ لیکن اکثریت حاصل نہ ہونے کے سبب نو دنوں میں ہی مستعفی ہو گۓ تھے۔ اسکے بعد بی جے پی کے ارجن منڈا نے حکومت بنائی تو شبو سورین نے چند ماہ قبل اس حکومت میں شامل پانچ آزاد ارکان اسمبلی کو حمایت واپس کرنے کے لۓ راضی کرلیا اور اس حکومت کو گرانے میں کامیابی حاصل کر لی۔ اس مہم میں شبو کو لالو کی حمایت حاصل تھی۔ شبو سورین رانچی کی مدھو کوڑا کے حکمراں اتحاد کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے چیئر مین تھے اور اس حکومت میں شامل ارکان اسمبلی کو متحد رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ شبو کے جیل جانے کے بعد رانچی میں مدھوکوڑا کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔ ایک طرف حزب اختلاف اس معاملے کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی تو دوسری جانب خود اپنے حلیفوں کو متحد رکھنا بھی مسٹر کوڑا کے لۓ مشکل ہوگا۔ شبو سورین نے محض میٹرک تک کی تعلیم حاصل کی ہے مگر جھارکھنڈ کے قبائیلیوں کی جدو جہد میں انہیں نمایاں کامیابی ملی۔ جھارکھنڈ کے قیام میں انکی پارٹی جھارکھنڈ مکتی مورچہ کا کردار سب سے اہم مانا جاتا ہے۔ ذاتی طور پر شبو سورین نے سود خور مہاجنوں کے خلاف بھی بڑی کامیاب مہم چلائی تھی۔ چھ بار لوگ سبھا اور ایک بار راجیہ سبھا کے ممبر رہ چکے شبو سورین کا اصل نام شوناتھ مانجھی ہے۔ وہ اسی سال جنوری میں تیسری بار مرکزی وزارت میں شامل ہوئے تھے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||