BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 December, 2006, 12:54 GMT 17:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئ بم دھماکے: مجرم 100
سزاؤں کی نوعیت کیا ہوگی، اس کا فیصلہ اگلے سال کیا جائے گا
ممبئی میں ایک جج نے انیس سو ترانوے کے بم حملوں کے مقدمے میں چھ مزید افراد کو سزا سنائی ہے جس سے اب تک سزا پانے والوں کی تعداد ایک سو ہو گئی ہے۔

پیر کو چھ مزید افراد کے مجرم قرار دیئے جانے کے بعد بم دھماکوں کے ملزموں کے مقدمات کی سماعت کا پہلا مرحلہ ختم ہوگیا ہے۔ تئیس افراد کو بری کر دیا گیا ہے۔

توقع ہے کہ باضابطہ طور پر سزاؤں کا اعلان اگلے سال ہوگا۔

ممبئی میں انیس سو ترانوے میں بارہ بم دھماکے ہوئے تھے جن میں دو سو ستاون افراد مارے گئے تھے۔ یہ دھماکے ہندو مسلم فسادات کے بعد مبینہ طور پر جرائم کی دنیا پر حاوی مسلمانوں نے کیے تھے۔

عدالت نے اس برس ستمبر سے اس مقدمے کے 123 ملزموں کے بارے میں سماعت شروع کی تھی۔یہ مقدمہ گذشتہ تیرہ برس سے زیر سماعت ہے۔

ممبئی دھماکوں میں قصوروار قرار دئے جانے والوں میں میمن برادرز، اور کئی خواتین سمیت ان کے خاندان کے کئی دیگر لوگ بھی شامل ہیں۔

سی بی آئی کے مطابق ان دھماکوں کے سب سے اہم ملزم مافیا سرغنہ داؤد ابراہیم ہیں جو ملک سے فرار ہيں۔

عدالت نے جن لوگوں کو قصوروار قرار دیا ہے ان میں فلم سٹار سنجے دت بھی شامل ہیں۔انہیں صرف غیر قانونی طور پر اسلحہ رکھنے کا مجرم پایا گیا ہے۔

سرکاری وکیل اجول نکم کا کہنا ہے: ’ شاید یہ عدالتی کاروائی کی تاریخ میں پہلا موقع ہے جب ایک ہی ٹرائل ميں سو افراد کو مجرم قرار دیا گیا ہو۔‘

تیرہ سال چلنے والے اس مقدمے میں چھ سو چھیاسی افراد کو گواہی کے لیے طلب کیا گیا اور مقدمے کی شہادت پینتیس ہزار صفحات پر مشتمل تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد