1993 دھماکے: چار مجرم، ایک بری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی میں ہونے والے انیس سو ترانوے کے بم دھماکوں کے مقدمات کی مخصوص ٹاڈا عدالت نے جمعرات کے روز پانچ ملزمین کے بارے میں فیصلہ سنایا جن میں سے چار کو عدالت نے مجرم قرار دیا جبکہ ایک کو بری کر دیا گیا۔ ٹاڈا کے خصوصی جج پرمود دتاتریہ کوڈے نے ملزم نمبر 58 شیخ محمد احتشام، ملزم نمبر 60 شریف ادھیکاری، ملزم نمبر 61 سجاد عالم اور ملزم نمبر 128 شاہ نواز خان کو مجرم قرار دیا۔ ان چاروں پر شیکھاڑی سے اسلحہ ممبئی تک لانے کا جرم ثابت ہوا ہے لیکن اسی کے ساتھ عدالت نے شاہنواز کو بم دھماکوں کی سازش کا بھی قصوروار قرار دیا۔ آج عدالت نے ملزم نمبر 38 اشفاق قاسم حولدار کو ناکافی ثبوت اورشک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔ قاسم پر بھی اسمگلنگ یعنی اسلحہ کی لینڈنگ کا الزام تھا۔ قاسم کو یکم اپریل 1993میں ہی گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن پچیس ہزار روپے کی ضمانت پر انہیں گیارہ ماہ بعد رہائی ملی تھی۔ جن پانچوں ملزمین کی تقدیر کا آج فیصلہ ہوا وہ سب ضمانت پر تھے اور ان کے ساتھ ان کے افراد خانہ بھی عدالت کے باہر ان کی منتظر تھے لیکن چاروں کو مجرم قرار دینے کے بعد حراست میں لے لیا گیا اور صرف اشفاق حولدار کو رہائی ملی۔ آج سے ٹھیک ایک ماہ قبل عدالت نے بم دھماکوں کا فیصلہ سنانا شروع کیا تھا اور اب تک عدالت نے 59 ملزمین میں سے 43 کو مجرم قرار دیا اور 16کو رہا کر دیا۔ اب صرف 64 ملزمین کا فیصلہ باقی ہے جن میں فلم اسٹار سنجے دت بھی شامل ہیں۔ |
اسی بارے میں 1993 بم دھماکے، چار قصوروار11 October, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے، دو اور ملزم قصور وار22 September, 2006 | انڈیا ’ پانچ بری، ایک قصوروار‘28 September, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے، پولیس بھی مجرم 26 September, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے: پانچ افراد مزید مجرم29 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||