BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی کارپوریشن کے لیے انتخابات

ممبئی میونسپل کارپوریشن
ممبئی میونسپل کارپوریشن کا شمار ایشیاء کے امیر ترین کارپوریشنون میں ہوتا ہے
انڈیا کے تجارتی دارالحکومت ممبئی کی میونسپل کارپوریشن کا شمار ایشیاء کے امیر ترین بلدیاتی اداروں میں ہوتا ہے اور اس کارپوریشن کے انتخابات یکم فروری کو ہونے والے ہیں۔

ممبئی شہر کو 227 وارڈوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک کروڑ پچاس لاکھ آبادی والے اس شہر میں سن دو ہزار کی مردم شماری کے مطابق 83 لاکھ رائے دہندگان ہیں۔ اس مرتبہ مکمل طور پر ووٹنگ الیکٹرانک مشین کے ذریعے ہو گی اور انتخاب کے دوسرے ہی روز ووٹوں کی گنتی کا کام شروع ہو جائے گا۔

ملک کے ہر شہر کی طرح ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ذمے میں بھی شہر میں پانی کی سپلائی، نکاسی کے راستے، سڑکوں کی تعمیر اور ان کی مرمت، باغ اور کھیل کود کے میدان کی دیکھ بھال کے علاوہ شہری نقل و حمل، درجنوں سرکاری ہسپتالوں اور دو ہزار دو سو سینتیس سکولوں کا انتظام ہے۔

 ممبئی شہر کو 227 وارڈوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک کروڑ پچاس لاکھ آبادی والے اس شہر میں سن دو ہزار کی مردم شماری کے مطابق 83 لاکھ رائے دہندگان ہیں۔ اس مرتبہ مکمل طور پر ووٹنگ الیکٹرانک مشین کے ذریعے ہو گی اور انتخاب کے دوسرے ہی روز ووٹوں کی گنتی کا کام شروع ہو جائے گا۔

ممبئی بلدیاتی کارپوریشن کا سالانہ بجٹ بارہ ہزار کروڑ روپے سے بھی زیادہ ہے۔ اس لیے ریاست کی سیاسی پارٹیاں اس پر اپنا قبضہ جمانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتی ہیں۔

اس وقت ممبئی میونسپل کارپوریشن پر شیو سینا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا قبضہ ہے لیکن ریاست میں کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کا اتحاد اقتدار میں ہے۔

ممبئی میونسپل کارپویشن ( بی ایم سی ) کے انتخابات پر صرف ریاست مہاراشٹر ہی نہیں مرکز کی بھی نظر ہوتی ہے اس لیے یہ انتخابات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔

کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی نے اس مرتبہ شیو سینا اور بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے مشترکہ طور پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن محض دو سیٹوں پر اختلاف کے سبب دونوں میں انتخابی سمجھوتہ نہیں ہو سکا۔

 اس وقت ممبئی میونسپل کارپوریشن پر شیو سینا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا قبضہ ہے لیکن ریاست میں کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کا اتحاد اقتدار میں ہے۔

کانگریس پارٹی اندرونی خلفشار کا شکار ہے اور ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے کئی امیدوار یا تو پارٹی چھوڑ کر چلے گئے یا پھر پارٹی امیدوار کے سامنے با حثیت آزاد امیدوار یہ الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ایسی ہی صورتحال سے مہاراشٹر کی علاقائی پارٹی شیو سینا بھی دوچار ہے۔ اس کے کئی ورکروں نے بغاوت کر دی ہے۔
سیاسی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ شیو سینا اور بی جے پی کے لیے بھی اقتدار حاصل کرنا مشکل ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ بال ٹھاکرے کے بھتیجے راج ٹھاکرے نے ناراض ہو کر اپنی نئی پارٹی نو نرمان سینا بنا لی ہے جو مراٹھی ووٹ تقسیم کرنے میں اہم رول ادا کر سکتی ہے۔

مہاراشٹر کے علاقائی لوگوں کو مراٹھی کہا جاتا ہے اور اس مرتبہ کانگریس نے شیو سینا کو شکست دینے اور مراٹھیوں کو رجھانے کے لیے پچاس فیصد سے زیادہ مراٹھی امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے۔

ممبئیممبئی : اکھڑ شہر؟
ممبئی دنیا کا سب سے اکّھڑ شہر
ممبئیبموں کی فکر کسے ہو
’ممبئی میں فکر کرنے کو اور بہت کچھ ہے‘
اسی بارے میں
جیل میں گاندھی گیری
19 October, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد