BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 June, 2006, 14:01 GMT 19:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی دنیا کا سب سے اکّھڑ شہر

ممبئی
ممبئی کے لوگ اس خبر سے خوش نہیں ہیں کہ ممبئی کے لوگ ناشائستہ ہیں
برطانیہ کی ایک مشہور رسالے ریڈرز ڈائجسٹ کے مطابق ممبئی دنیا کا سب سے اکّھڑ مزاج شہر ہے۔

اس میگزین نے دنیا کے مختلف شہروں کا سروے کرنے کے بعد ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق برازیل کے شہرساؤپاولو اور امریکہ کے شہر نیو یارک میں سب سے زیادہ شائستگی، ہمدردی اور انکسار پایا جاتا ہے۔

میگزین کا کہنا ہے کہ اس نے اس سروے کے لیئے دو ہزار رپورٹرز دنیا کے پینتیس ممالک میں بھیجے تھے تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ ان شہروں میں لوگ کس مزاج و انداز سے گفتگو کرتے ہیں اور دوسروں سے ان کا سلوک کیسا ہے؟ ممبئی کے لوگ اس خبر سے خوش نہیں ہیں کہ ممبئی کے لوگ ناشائستہ ہیں۔

ویمنس کالج نرملا نکیتن کی نائب پرنسپل فریدہ لامبے نے اس سروے رپورٹ کو سرے سے خارج کر دیا ان کا کہنا تھا کہ ’ممبئی شہر کو اگر ہم دنیا کے چند اچھے اور مددگار شہروں میں شمار کریں تو شاید غلط نہیں ہوگا۔ یہاں لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیئے تیار رہتے ہیں۔ یہ کاسموپولیٹن شہر ہے اس نے اپنے دامن میں سب کو پناہ دی ہے‘۔

معروف اسکرپٹ رائٹر جاوید صدیقی کے مطابق ممبئی جیسا ہمدرد دوسرا شہر شاید ہی دنیا میں ہو ’میں اس رپورٹ پر یقین نہیں کر سکتا۔ یہاں لوگ بلا امتیازِ مذہب و ملّت دوسروں سے تعاون کرتے ہیں‘۔ ممبئی میں ’اکّھڑ پن‘ نہیں ہے لیکن یہاں لوگ انجان چہروں کو دیکھ کر مسکراتے نہیں ہیں یا بات بات پر شکریہ نہیں کہتے۔ ممبئی کی زندگی بہت مصروف ہے اور لوگ زبردست ذہنی تناؤ میں کام کرتے ہیں‘۔

ممبئی کے باسی جارج پریرا کہتے ہیں کہ ممکن ہے بعض لوگوں کا سلوک برا ہو لیکن ’عام طور پر لوگ اچھے ہیں‘۔

مشہور ایڈ فلم میکر پرہلاد کّکر کا کہنا ہے کہ جب وہ پہلی بار ممبئی آئے تھے تو انہیں لگا تھا ممبئی واسی بڑے گنوار اور بد سلیقہ لوگ ہیں۔ ’میں شمالی انڈیا سے ہوں اس لیے ممبئی کے لوگ اجنیبیوں کے ساتھ جس طرح بات کرتے تھے اس پر مجھے بڑی حیرت ہوتی تھی لیکن مجھے بعد میں لگا کہ یہ سطحی طور پر ہے اور دل سے لوگ اچھے ہیں‘۔

مسٹر ککّر کا کہنا تھا کہ شائستہ مزاجی کو ناپنے کے لیے مغربی پیمانہ استعال کیا گيا ہے جو ایشیا کے لیے درست نہیں ہے۔

انڈیا میں میگزین ریڈرز ڈائجسٹ کے ایڈیٹر موہن شوا نند کا کہنا ہے کہ چونکہ تہذیبی وثقافتی سطح پر کافی فرق پایا جاتا ہے اس لیے سروے میں ایشیائی شہروں کا ریکارد خراب ہے۔

انکا کہنا ہے کہ ’یہاں کے لوگ احسان وتشکر کا اظہار الفاظ سے کم اور حرکات وسکنات سے زیادہ کرتے ہیں‘۔

شوانند کا کہنا تھا کہ سروے میں ممبئی کے ساٹھ لوگوں میں سے انیس لوگوں کا سلوک ادب کے دائرے میں تھا جس سے پتہ چلتا ہے کہ ممبئی کے تقریبا بتیس فیصد لوگ شائستہ مزاج ہیں۔

ممبئی کی کل آبادی ڈیڑھ کروڑ ہے ۔یہاں پورے انڈیا سے لوگ کام کی تلاش میں آتے ہیں اور یہاں ہر طبقے، ذات اور مذہب کے لوگ رہتے ہیں۔

اسی بارے میں
کشوری لال کے اٹھانوے سال
11 February, 2006 | پاکستان
’حکومتیں پیچھےرہ گئیں‘
02 February, 2006 | پاکستان
قونصل خانے کھلنے میں تاخیر
28 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد