BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 November, 2005, 12:57 GMT 17:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قونصل خانے کھلنے میں تاخیر

دہلی میں پاکستانی قونصل خانہ
دہلی میں پاکستانی سفارت خانے کی عمارت
پاکستان اور بھارت میں طے شدہ شیڈول کے مطابق بمبئی اور کراچی کے قونصل خانے کھولنے میں مزید تاخیر کا امکان ہے کیونکہ ابھی تک پاکستان نے ممبئی میں جگہ ہی حاصل نہیں کی۔

دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہوگی کہ آئندہ سال کے ابتدائی مہینوں میں یہ قونصل خانے کھل جائیں۔

اٹھارہ اپریل کو صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیرِاعظم من موہن سنگھ کے درمیان دلی میں بات چیت کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں دونوں ممالک نے اتفاق کیا تھا کہ رواں سال ختم ہونے سے پہلے کراچی اور ممبئی کے قونصل خانے کھولے جائیں گے۔

پیر کے روز ہفتہ وار بریفنگ میں تسنیم اسلم نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پاکستان نے تاحال جگہ حاصل نہیں کی لیکن اس بارے میں کچھ جگہوں کے متعلق بات چیت آخری مراحل میں ہے۔

 ان بے بنیاد بیانات کے متعلق پاکستان حکومت باضابطہ طور پر سفارتی سطح پر بھارت سے احتجاج نہیں کرے گی۔
تسنیم اسلم

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اس ماہ میں کرائے پر بھی جگہ حاصل کرلے تو بھی دفتر بنانے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

دفتر خارجہ کی ترجمان نے بھارت کی جانب سے دراندازی اور افغانستان میں ان کے ڈرائیور کے اغوا اور بعد میں قتل کیے جانے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے بارے میں بھارتی حکام اور سیاسی رہنماؤں کے بیانات کو بےبنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ تاہم ترجمان نے کہا کہ ان بے بنیاد بیانات کے متعلق پاکستان حکومت باضابطہ طور پر سفارتی سطح پر بھارت سے احتجاج نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ہلمند اور قندھار میں خود پاکستان کے آٹھ شہریوں کو اغوا کرکے قتل کردیا گیا ہے جو کہ ایک دہشت گردی ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ کنٹرول لائن کے پانچ مقامات سے آمد و رفت کے کھولے گئے پانچ مراکز سے روزانہ لوگوں کو آنے جانے کی سہولت ملنی چاہیے۔

بھارت کی جانب سے ان مراکز کو بارہ دسمبر تک کھلا رکھنے کی ’ڈیڈ لائن‘ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ یہ مراکز طویل مدت تک کھلے رہیں۔

کنٹرول لائن کی دونوں جانب کشمیر میں تجارت کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ کشمیر میں آزادنہ تجارت ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں لینا چاہیے کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد