فلمی خاکے: ’جہاں تک دیکھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شخصیت نگاری کا فن بہت قدیم ہے لیکن ماضی بعید میں یہ شاہوں اور نوابّوں کے قصیدوں اور پِیروں فقیروں کے تذکروں تک محدود تھا، جِن میں کسی کی شخصیت کا ہشت پہلو جائزہ لینے کی بجائے محض عقیدت یا احترام کا اظہار مقصود ہوتا تھا۔ ’ڈپٹی نذیر احمد کی کہانی کچھ اپنی کچھ اُن کی زبانی‘ (از فرحت اللہ بیگ) میں بھی شاگردانہ عقیدت مندی موجود ہے لیکن مصنّف نے اپنے استاد کی شخصیت کے سبھی پہلو واضح کئے ہیں حتیٰ کہ سُود خوری کے حق میں مولوی صاحب کے دلائل پر بھی پردہ نہیں ڈالا۔ اُردو میں جدید خاکہ نگاری کی ابتداء بالعموم عصمت چُغتائی کے ’دوزخی‘ سے مانی جاتی ہے جِس میں مصنفّہ نے بغیر کوئی لگی لپٹی رکھے اپنے بھائی کی شخصیت کو بےنقاب کیا ہے۔ اِس طرح کی بے باک خاکہ نگاری کی روایت کو سعادت حسن منٹو نے آگے بڑھایا۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے لاہورکے روزنامہ آفاق میں اپنے دوستوں اور واقفوں کے خاکے لکھنے شروع کیئے جو بعد میں دو مجموعوں کی شکل میں مُرتب ہوئے یعنی گنجے فرشتے اور لاؤڈ سپیکر۔ منٹو کا قلم زندہ اور مرحوم دونوں طرح کی شخصیات پر بے رحمی سے وار کرتا تھا کیونکہ اسکے خیال میں موت کسی شخصیت کا ماضی تبدیل نہیں کر سکتی بلکہ اس پر محض مہر تصدیق ثبت کرتی ہے۔
سیاسی، مذہبی، علمی اور ادبی شخصیات پر تو عرصہء دراز سے کسی نہ کسی شکل میں خامہ فرسائی ہوتی رہی تھی لیکن منٹو نے قائداعظم، باری علیگ اور چراغ حسن حسرت کے ساتھ ساتھ اشوک کمار، جدّن بائی اور نرگس کے خاکے بھی تحریر کیئے اور یوں پہلی مرتبہ فلم نگری کے لوگوں نے سیاسی اور مذہبی مشاہیر کے پہلو بہ پہلو جگہ پائی۔ ممبئی کی فلم نگری کو بعد میں منٹو جیسا خاکہ نگار تو نصیب نہ ہوا البتہ اس سے ذرا کم سطح پر شوکت ہاشمی نے بھی کئی فلمی شخصیتوں کے خاکے تحریر کیئے جو کہ بعد میں ’یہ پری چہرہ لوگ‘ کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوئے۔ پاکستان میں منٹو نے گنجے فرشتے کے ذریعے خاکہ نگاری کا ایسا کڑا معیار قائم کردیا تھا کہ عرصہء دراز تک کسی کو فلمی خاکہ نگاری کے میدان میں اُترنے کی ہمت نہ ہوئی۔ فلمی رسائل و جرائد میں اداکاراؤں کی نیم برہنہ تصاویر کے ساتھ اُن کے مختصر حالاتِ زندگی اور اُن کی فلموں کے نام ضرور چھپ جاتے تھے لیکن ظاہر ہے کہ اس عمل کو خاکہ نگاری کے ہُنر سے دُور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ فلمی خاکوں کے اس قحط میں بھی دو کتابوں نے ہماری توجہ حاصل کی۔ ایک تو یاسین گوریجہ کی ’لکشمی چوک‘ جس میں فلمی دنیا کے معروف واقعات پر اس انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے کہ کئی فلمی شخصیات بھی اس حلقہء نور میں آگئی ہیں، اور دوسری کتاب اداکار اور مصنّف سِکّے دار کی آپ بیتی ’ہُوک‘ ہے جِس میں سن پچاس اور ساٹھ کی دہائی کے کئی فلمی کردار زندہ سلامت ہمارے سامنے نمودار ہوتے ہیں۔ اس تمام پس منظر میں دیکھا جائے تو رضا ہاشمی کی نئی کتاب ’جہاں تک دیکھا‘ فلموں کے سوانحی ادب میں ایک خوشگوار اضافہ ہے۔ اس کتاب میں فلمی شخصیات کا بیان ’بالو اور ماہیا‘ کی پریم کہانی سے شروع ہوتا ہے۔
متحدہ ہندوستان کے جس ماحول میں وہ محبت پروان چڑھی اسے تو میری نسل کے لوگوں نے نہیں دیکھا لیکن اُن دونوں کی محبت نے صبیحہ خانم کی شکل میں جِس یادگار کو جنم دیا تھا اُس سے ہم بخوبی واقف ہیں۔ رضا ہاشمی کی کتاب کا اگلا مضمون منطقی ترتیب میں صبیحہ خانم ہی کی شخصیت کا احاطہ کرتا ہے۔ اسکے بعد مصنف نے نورجہاں، آشاپوسلے، نغمہ، نیلو، ناصرہ، شیریں، مسرت نذیر، زیبا، رخسانہ اور یاسمین وغیرہ کے خاکے تحریر کیئے ہیں۔ ہرباب کا عنوان ایسے الفاظ پر مبنی ہے کہ شخصیت کا ایک جامع نقشہ پہلے ہی ذہن میں آجاتا ہے، مثلاً چند عنوانات ملاحظہ کیجئے۔ چراغِ خانہ یا شمعِ محفل – صبیحہ خانم کتاب کے مصنّف رضا ہاشمی نے فلمی صحافی کی طور پر اپنے کیریئر کا آغاز ایک خوش نویس کی حیثیت سے کیا تھا۔ عرصہء دراز تک دوسروں کے لکھے کو اپنی نوک قلم سے سنوارنے کے بعد وہ خود اس میدان کے شہسوار بنے اور شباب کیرانوی کے رسالے ’پکچر‘ میں باقاعدگی سے لکھنے لگے۔ انہوں نے فلمی زندگی کے ہر پہلو پر بھرپور انداز میں اظہار خیال کیا اور اُن کی فلمی یاداشتوں کا کتابی شکل میں ریکارڈ ہوجانا اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ یاسین گوریجہ اور سکّے دار کی کتابوں کا شائع ہونا۔ رضا ہاشمی کوئی بیس برس سے انگلستان میں آباد ہیں اور مانچسٹر میں قائم پاکستان پریس کلب کے سرگرم کارکن ہیں۔ اسی کلب کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والے میگزیں ’فرینڈز‘ میں اُن کے یہ فلمی مضامین شائع ہوتے رہے ہیں جنہیں اب فرینڈز پبلیکیشنز بولٹن (یو۔ کے) نے کتابی شکل میں شائع کیا ہے۔ |
اسی بارے میں ’کشمیر کی آزمائش: ایک انقلابی حل‘24 April, 2006 | فن فنکار پرویز شاہدی کس کےمقتول ہوئے؟20 March, 2006 | فن فنکار بولتی فلم: عالم آراء کے بعد ہیر رانجھا 15 March, 2006 | فن فنکار فِلمی صحافت کے گمنام سپاہی11 March, 2006 | فن فنکار درد و کرب، عزم و اُمید میں غرق25 February, 2006 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||