پاکستانی فلم: بیسویں صدی تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس سلسلے کے گزشتہ مضامین میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ سلطان راہی کی وفات (جنوری 1996) پاکستانی فلم انڈسٹری کی تاریخ میں ایک اہم موڑ تھا۔ اپنی ناگہانی موت کے وقت وہ ہر دِل عزیز اداکار کئی درجن فلموں میں مرکزی کردار اداکر رہا تھا۔ جِن فلموں میں اسکا کام مکمل ہو چکا تھا اُن کی تعداد بہت کم تھی چنانچہ 1996 کے دوران اسکی صرف تیرہ فلمیں مکمل ہوکر نمائش کے لئے سینماؤں تک پہنچیں۔ مختلف فلم سازوں کا بہت سا سرمایہ ایسی فلموں میں پھنسا ہوا تھا جِن میں مرکزی کردار سلطان راہی ادا کر رہا تھا اور اِن فلموں کو کسی نہ کسی طرح مکمل کر کے سینماؤں تک لانا اشد ضروری تھا چنانچہ کچھ فلموں کی کہانی میں ردّوبدل کیا گیا، کہیں مناظر کی ترتیب میں تبدیلی کی گئی اور کہیں سلطان راہی کا کچھ کام کسی اور کردار کے سپرد کر دیا گیا۔ بعض صورتوں میں سلطان راہی کی پرانی فلموں سے مناظر حاصل کر کے اُن پر نئی آواز چڑھائی گئی اور کہیں سلطان راہی کے مکالمات پر محض دوسرے کِرداروں کا ردِعمل فلما کر کام چلایا گیا۔
غرض اِن فلموں کی تکمیل کے لئے جو بھی ہتھکنڈے استعمال ہو سکتے تھے کئے گئےاور اس طرح 1997 کے دوران بھی سلطان راہی کی چھ فلمیں نمائش کے لئے پیش کی گئیں۔ جِن میں طِیفا گُجّر، دُشمن دا کھڑاک، کالا راج، ٹکّر، سکھان اور لاہوریا شامل تھیں۔ فلمی اُفق پہ سلطان راہی کی خِیرہ کُن چمک ذرا ماند پڑی تو پتہ چلا کہ آس پاس کتنے ہی چھوٹے بڑے جگنو جگ مگ کر رہے تھے لیکن سلطانی دھوپ میں کسی کی روشنی بھی بار نہ پا سکی تھی البتہ اب دورِ سلطانی کے دھندلکے میں کئی دیئے روشن ہو چکے تھے جِن میں بابر علی کی لَو سب سے اونچی تھی اور اسکے پہلو میں سعود اور معمر رانا کی شمعیں بھی روشن تھیں۔ شان اپنی الگ شان کے ساتھ پہلے سے موجود تھا لیکن سلطان راہی کے اصل جانشین کے طور پر اسکی حیثیت کا تعین کچھ عرصہ بعد ہی ہوسکا۔ اس ’مابعدِ سلطانی دَور‘ میں جس شخص نے ایکشن فلموں کے خلاء کو راتوں رات پُر کیا وہ پشتو فلموں کا قدآور ہیرو بدرِ منیر تھا۔
یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ سال 1998 میں پنجابی کی صرف 6 فلمیں ریلیز ہوئیں جبکہ اُسی برس 17 پشتو فلمیں ریلیز ہوئیں اور اِن میں سے 10 فلموں کا ہیرو بدرِ منیر تھا۔ گویا پنجاب کے غیرت مند، جی دار، انصاف پسند اور اپنی بات پہ کٹ مرنے والے البیلے نوجوان سلطان راہی کی روح ان کی موت کے بعد ایک غیّور، بہادر، نڈر اور قول و قرار کے پکّے پٹھان کا روپ دھارنے کے لیے بدرِ منیر میں سرایت کر گئی تھی۔ اِس صورتِ حال کا ایک ضمنی فائدہ اُردو فلموں کو بھی پہنچا اور 1997 میں کئی برس کے بعد 9 پنجابی فلموں کے مقابلے میں 35 اُردو فلمیں پیش کی گئیں۔ اسی طرح 1998 میں صرف چھ پنجابی فلموں کے مقابل اُردو فلموں کی تعداد 29 تک پہنچ گئی (اس صورتِ حال کا موازنہ 1991 کے حالات سے کیجئے جب سارے سال میں صرف 6 اُردو فلمیں ریلیز ہوئی تھیں جبکہ پنجابی فلموں کی تعداد 59 تھی!) اعدادوشمار کے اس گورکھ دھندے سے جو سیدھے سادے نتائج برآمد ہوتے ہیں وہ اتنے سے ہیں کہ سن 90 کی دہائی کے آخری برسوں میں اُردو فلموں کا نصیب – مختصر عرصے کے لئے ہی سہی – جاگ اُٹّھا اور شان، بابر علی، سعود اور معمر رانا کے ساتھ ساتھ ریما، میرا، ریشم اور نرما نے بھی اپنا رنگ روپ دکھایا۔ اس سلسلے میں صائمہ خاص طور پر خوش قسمت رہیں جن کی دوچار نہیں بلکہ پوری 16 فلمیں 1999 کے دوران ریلیز ہوئیں۔ مُصنّف و ہدایتکار کے طور پر سن 90 کی دہائی میں سید نور کا بول بالا رہا جنھوں نے اس عرصے میں ’قسم‘ (1993 )، جیوا (1995 ) مشکل (1995 ) گھونگھٹ (1998 ) چوڑیاں (1998 ) اور دوپٹہ جل رہا ہے جیسی کامیاب فلمیں پیش کیں۔
اُردو فلموں کے احیاء اور اِنڈسٹری کی گِرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے میں فلم ’جیوا‘ نے اہم کردار ادا کیا۔ مصنّف و ہدایتکار سید نور کی یہ فلم اگرچہ خاندانی دُشمنی، عہدِ انتقام اور باپ کے قاتِل کی تلاش جیسے جانے پہچانے موضوعات کے گرد گھومتی ہے لیکن اسکی لوکیشن کے لئے تُرکی جیسے ملک کو منتخب کر کے سید نور نے ایک گھسے پٹے موضوع میں بھی نُدرت پیدا کردی۔ تفصیلات کے مطابق غیر ملکی لوکیشن کے لئے لندن کا انتخاب کیا گیا تھا لیکن برطانوی ویزے ملنے کا عمل اتنا طویل اور پریشان کُن تھا کہ اسکی جگہ تُرکی جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ چونکہ ہدایتکار خود ہی مصنّف بھی تھا، اس لئے اُس نے استنبول کی سیر کرنے کے بعد فوری طور پر کہانی میں مناسب تبدیلیاں کر لیں اور ترکی کے میوزیم میں موجود اسلامی نوادرات کو کہانی کا جزو بنالیا۔ یہ ایک بڑی کاسٹ کی فلم تھی جس میں ایک طرف ندیم، جاوید شیخ اور نیلی جیسے سٹار تھے تو دوسری طرف ریشم اور بابر علی جیسے تازہ چہرے بھی موجود تھے۔ کریکٹر رول میں مصطفٰے قریشی، دیبا اور خالد بٹ نے اپنی تجربہ کاری کا پورا ثبوت مہیّا کیا تھا اور غلام محی الدین سِکھ کے آزمودہ کردار میں انتہائی کامیاب تھے۔
فلم جیوا میں بابر علی کی اُٹھان دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ پاکستانی فلم انڈسٹری کو مستقبل کا ندیم، وحید مُراد اور محمد علی بیک وقت میّسر آ گیا ہے اور اس نوجوان کو سُپر سٹار بننے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی لیکن۔۔۔ فلمی تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ فلم انڈسٹری کے بارے میں کوئی حتمی پیش گوئی کبھی نہیں کی جا سکتی۔ |
اسی بارے میں لالی وڈ آج اور کل، قسط 1119 September, 2005 | فن فنکار ممبئی میں پاکستانی فلم کی شوٹنگ16 July, 2005 | فن فنکار لاہور کی فلم، تقسیم سے پہلے01 July, 2005 | فن فنکار فلمی صنعت، پنچولی کے بعد 16 June, 2005 | فن فنکار بالی وڈ :آخری راستہ؟09 June, 2005 | فن فنکار لالی وڈ کل اور آج: چھٹی قسط09 June, 2005 | فن فنکار آواز کی آمد، لالی ووڈ: کل اور آج (4)07 May, 2005 | فن فنکار فِلم سازی کے ارتقاء پر ایک نظر 26 April, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||