پرویز شاہدی کس کےمقتول ہوئے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پرویز شاہدی کا مجموعہ ’تثلیثِ حیات‘ صرف ایک شعری انتخاب نہیں ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب شاید بہت سے لوگوں کے پاس ہو گا لیکن کوئی بھی شاید اس جواب کے بارے میں پُریقین نہیں ہے۔ بلاشبہ یہ انتخاب یوسف امام کی پرویز شاہدی سے ایسی محبت اور اخلاص کا نمونہ ہے جو اب نایاب ہے اور ہے تو اس کے ہونے پر کوئی یقین نہیں کر سکتا۔ تثلیثِ حیات کے دو سو بہتر صفحات پر ستتر غزلیں، بتیس نظمیں اور ساٹھ رباعیوں ہیں اور کتاب بہت عمدہ شائع ہوئی ہے اس کا سر ورق موجود نے تخلیق کیا ہے۔ یوسف امام کا کہنا ہے کہ یہ انتخاب پرویز شاہدی کی اعلیٰ شعری کارکردگی کا نمونہ ہے۔ میرے لیے اس انتخاب پر بات کرنا آسان نہیں تھا کیونکہ اس پر اس انتخاب میں خلیل الرحمٰن اعظمی، مظہر امام، یوسف امام، اختر پیامی اور ادیب سہیل کی انتہائی پُرمحبت، تفصیلی اور مختصر آراء بھی شامل ہیں اور میں ان بزرگوں کا بے حد احترام کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ اس انتخاب میں خود پرویز شاہدی کا مختصر پیش لفظ بھی ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے: ’میری شاعری اچھی ہو یا بری، کلاسیکی اسالیبِ فکرو اظہار سے گراں بار ہو یا غیرمستحسن بدعتوں سے بوجھل، قارئینِ کرام کو میرے اشعار میں جگ بیتی یا آپ بیتی کی کوئی نہ کوئی جھلک ضرور نظر آ سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے یہ بھی میرا فریبِ نفس ہو لیکن میری حسرتِ خود شناسی اور تمنائے تعارف کے لیے کوئی قابلِ اعتبار سہارا بھی تو نہیں‘۔ پرویز شاہدی کا یہ مخلصانہ اور خود پر شک کا انداز اس بات کا بھی اظہار ہے کہ وہ کیسے انسان تھے۔ یہ غیر یقینی پن محض ان کا انکسار نہیں ہے کیونکہ ان کی زندگی کے بارے میں جو کچھ میں جان سکا ہوں اس کے حوالے سے وہ ایک انتہائی کمٹِڈ اور پُریقین و پُرعزم انسان تھے اور اس معاملے میں ان کے گمان، یقین سے بھی بڑھ کر تھے۔ انہوں نے زندگی میں عملاً جو کچھ کیا اس کا تعلق سماج میں اس تبدیلی سے تھا جس کا خواب ایک زمانے تک برصغیر کے ہر حساس دل و دماغ سے وابستہ رہا ہے۔ میرے خیال میں پرویز شاہدی کا یہی طرزِ زندگی انکی شاعری تھا اور شاید اسی وجہ سے ان کے بارے میں ان کے دوستوں کو یہ گمان بھی ہوا کہ وہ اردو میں پابلو نیرودا، ناظم حکمت یا پیٹر بلیک مین جیسے شاعر ہیں۔ اب کافی وقت گزر گیا ہے۔ اب ہمیں پتہ چل چکا ہے کہ پابلو نیرودا، ناظم حکمت اور پیٹر بلیک مین کی شعری قامت کیا ہے اور اردو کے پاس اس قامت کا کوئی شاعر ہے بھی یا نہیں اور اگر ہے تو وہ کون ہے؟ ایسے دوستوں اور ایسی خوش گمانیوں کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کے شاعر خود کو سمجھ نہیں پاتا اور اس دھند سے آگے نہیں دیکھ پاتا جو اس کے پہلے حلقے کی پیدا کی ہوئی ہوتی ہے۔
یوسف امام کا کہنا ہے کہ ’بیدل، شاد اور یگانہ کے بعد بہار سے ابھرنے والے باکمال اور قادر الکلام شعرا میں تین نام سرِ فہرست ہیں: جمیل مظہری، پرویز شاہدی اور اجتبٰی رضوی‘۔ مزید یہ کہ ’جمیل مظہری اور پرویز شاہدی کا عروج تیس سے زیادہ برسوں پر محیط رہا اور یہ دونوں اپی زندگی میں مشرقی ہندوستان میں لیجنڈ کی حیثیت اختیار کر گئے‘۔ اردو یا فارسی ادب کا کوئی بھی طالبِ علم اگر بیدل، شاد اور یگانہ سے ناواقف ہے تو شاید اس کا شمار بے علموں میں ہوگا اور اگر کسی کو صرف فارسی ادب کا شناسا ہونے کا دعویٰ ہے تو اس پر بھی یہ حد جاری ہوتی ہے کہ وہ بیدل کو جانتا ہو۔ لیکن اردو ادب کے حوالے سے اس طرح کی حد کا اطلاق جمیل مظہری، پرویز شاہدی اور اجتبٰی رضوی کے حوالے سے نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی باتیں کرنا ان تینوں کے ساتھ ہی نہیں اردو ادب کے ساتھ بھی زیادتی ہوگا۔ اس حوالے سے زیادہ بہتر انداز مظہر امام کا ہے اور ان کا کہنا ہے ’پرویز شاہدی کی اصل شہرت اور مقبولیت بہار اور بنگال میں تھی ۔ ۔ ۔ اور سچ تو یہ ہے کہ جو عزت، محبت، شہرت اور مقبولیت انہیں بنگال میں ملی وہ شاید وحشت کلکتوی کے علاوہ اردو کے کسی اور شاعر کے حصے میں نہیں آئی‘۔ مظہر امام یہ تو نہیں بتاتے کہ وحشت اردو ادب کی تاریخ میں اب کہاں ہیں لیکن وہ اس کے بعد اصل دشواری کی جانب آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’ادب کے عام طالبِ علم کے لیے ایک ایسے شاعر کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے میں یقیناً دشواری کا باعث ہو گا جس نے پچاس سال شعر گوئی کی ہو اور ایک مخصوص علاقے ہی میں سہی، اس کی سخنوری کی اتنی دھوم ہو کہ بیس سال تک اس کا کوئی حریف اور مد مقابل نظر نہ آتا ہو لیکن اس کے بارے میں ناقدین کی تحریریوں سے کوئی سراغ نہ مل سکے‘۔ شاید اصل مسئلہ یہیں کہیں ہے۔ پرویز شاہدی اچھے مطالعے والے قادر الکلام تھے اور خوش نوا تھے۔ انہیں الفاظ منظوم کرنے پر دسترس تھی۔ وہ اپنے ہر خیال کو بخوبی منظوم کر لیتے تھے اور جب اسے سناتے تھے تو خیال کی قوت اور آواز کا جادو کے ساتھ ان کی سیاسی شخصیت مل کر یہ احساس پیدا کر دیتی تھیں کہ وہ ایک بے پناہ شاعر ہیں اور یہ گمان کئی دہائیوں پر محیط رہا لیکن وہیں تک جہاں تک پرویز شاہدی شخصی طور پر پہنچ پائے۔ لیکن جہاں وہ نہیں تھے وہاں ان کی شاعری نہیں گئی کیونکہ شاعری نہیں تھی۔ اگر شاعری ہوتی تو دوڑتی ہوئی دنیا کے اس حصے سے اس حصے تک پہنچ جاتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی سرحد تخلیق کا راستہ نہیں روک سکی اور شاعری کو خوش نوائی اور سیاسی اثر انگیزی کا سہاروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس معاملے میں فیض صاحب کا معاملہ ہماری رہنمائی کے لیے کافی ہے ساحر، مجاز، جگر، جوش غرض کہ اقبال کے بعد کے زمانے کے تمام شعرا کو سامنے رکھ لیں کیا کسی کا نام اقبال کے بعد فیض سے اوپر لکھا جا سکتا ہے۔ جوش عقیدت میں لکھ بھی دیں تو باطل ہو جائے گا اور وقت اسے تاریخ کا حصہ نہیں بننے دے گا۔ تاریخ کی اس سفاکی کے سامنے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔فیض سیاسی معنوں ایکٹیوسٹ یا ترقی پسند نہیں تھے بلکہ ادبی معنوں تھے۔ ترقی پسند تحریک نہ بھی ہوتی تو فیض شاعر ہی ہوتے اور شاید اتنے ہی بڑے۔
اگر اتنا وقت نہ گزرا ہوتا تو یہ سوال کیا جا سکتا تھا کہ یہ بات پرویز شاہدی جیسے آدمی کو کیوں محسوس نہیں ہو سکی؟ مظہر امام کہتے ہیں کہ پرویزشاہدی ناقدوں کے مقتول ہوئے۔ میں ان سے متفق نہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس محبت کے ہاتھوں مارے گئے جس نے مظہر امام سے یہ جملہ لکھوایا ہے کہ وہ ناقدوں کے مقتول ہوئے۔ زندگی کی طرح شاعری بھی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ دوستی کی باوجود اس کے بارے میں سچ نہ صرف جانا جائے بلکہ بتایا بھی جائے اور شاعری کرنے والے دوستوں کو محبت و خوش فہمی کے اندھیرے میں مرنے کے لیے نہ چھوڑا جائے۔ اس انتخاب میں بہت جگہ پر پرویز شاہدی شاعری کے بہت قریب تک پہنچے ہیں لیکن کہیں کوئی چیز ایسی ہے جس نے اسے کامل شعر نہیں بننے دیا اور اگر وہ اس میں کامیاب ہو جاتے تو آج ہم ان کا ذکر نیرودا، ناظم اور بلیک مین کی طرح نہیں تو فیض اور راشد کی طرح ضرور کر رہے ہوتے۔ |
اسی بارے میں ’افتخار عارف کا نمبر تیسرا ہے‘ 07 October, 2005 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||