BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 May, 2006, 10:34 GMT 15:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اِپٹا: سماجی ڈراموں کے چونسٹھ سال

اِپٹا کی ایک تخلیق میں فنکار اوتار گِل (بائیں)
ممبئی کے تاریخی پرتھوی تھیئٹر میں آج کل انڈین پیپلز تھیئٹر ایسوسی ایشن یعنی اِپٹا اپنا ڈرامہ فیسٹیول منا رہا ہے۔ ان دنوں یہاں فلمی ستارے، تھیئٹر کی دنیا کے بڑے فنکار، ادیب، نقاد اور ڈرامہ شائقین کی زبردست بھیڑ ہے۔

’ایک جٹ‘ ڈرامہ فیسٹیول کے بعد اس سال ممبئی میں یہ دوسرا فیسٹیول تھا جس میں پورے انڈیا سے ڈرامہ کی دنیا کے نامور فنکاروں نے شرکت کی۔ کامیابی کے ترسٹھ سال مکمل کرنے کے بعد اس گروپ کا یہ چونسٹھواں سال ہے اور اسے منانے کے لیے گیارہ روز تک مختلف ڈرامے عوام کے سامنے پیش کیے گئے۔ بزرگ فنکار اور ’اپٹا‘ کے بانیوں میں سے ایک اے کے ہنگل، نامور شاعر کیفی اعظمی کی بیوہ شوکت کیفی اور اداکارہ شبانہ اعظمی کے ہاتھوں اس فیسٹیول کا آغاز ہوا۔

شیلی سیتھو اس پروگرام کی انچارج ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم ہر سال یکم مئی یعنی عالمی مزدور دن کے موقع پر اس فیسٹیول کا آغاز کرتے ہیں لیکن تھیئٹر خالی نہ ہونے کے سبب اس میں تاخیر ہوئی ہے۔‘ یہ فیسٹیول اتوار چودہ مئی کو ختم ہوگا۔

فیسٹیول کی دو خاص باتیں تھیں۔ ایک تو گروپ نے دو نئے ڈرامے، ’سرپھرے‘ اور ’شیشوں کا مسیحا‘ پیش کیا اور دوسرا کیفی اعظمی کی چوتھی برسی پر ایک خصوصی پروگرام جس میں مشہور نغمہ نگار جاوید اختر اپنے سسر یعنی کیفی اعظمی بنے تھے اور شبانہ اعظمی نے اپنی ماں شوکت کیفی کا کردار نبھایا تھا۔ جاوید اختر نے کیفی کی نظمیں پڑھیں اور شبانہ نے شوکت اعظمی کی وہ یادداشتیں پڑھیں جو شوکت نے اپنے شوہر کے لیے لکھی ہیں۔ اسے دیکھنے اور سننے کے لیے لوگوں کا ہجوم تھا۔

شبانہ اعظمی اس موقع پر بہت جذباتی ہوگئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں ابا کو آج بھی اپنے قریب محسوس کرتی ہوں۔ اس پلیٹ فارم سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ابا میرے ڈرامے دیکھنے کے بعد ان پر تنقید کیا کرتے تھے۔‘

فیسٹیول کی دو خاص باتیں
 فیسٹیول کی دو خاص باتیں تھیں۔ ایک تو گروپ نے دو نئے ڈرامے، ’سرپھرے‘ اور ’شیشوں کا مسیحا‘ پیش کیا اور دوسرا کیفی اعظمی کی چوتھی برسی پر ایک خصوصی پروگرام جس میں مشہور نغمہ نگار جاوید اختر اپنے سسر یعنی کیفی اعظمی بنے تھے اور شبانہ اعظمی نے اپنی ماں شوکت کیفی کا کردار نبھایا تھا۔
شبانہ کا دعویٰ ہے کہ ان کا یہ گروپ دنیا کا سب سے بڑا تھیئٹر گروپ ہے جس میں دس ہزار کے قریب ممبر ہیں اور وہ سب ایک فیملی کی طرح ہیں۔ وہ بغیر ایک پیسہ لیے ڈرامے کرتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ اتنے برس گزرنے کے بعد آج بھی ان کی فیملی ( تھیئٹر گروپ) کی اپنی کوئی زمین نہیں ہے جسے وہ اپنا کہہ سکیں۔اس لیے انہوں نے مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ سے اس سلسلہ میں بات کی ہے اور انہیں یقین ہے کہ آئندہ برس تک انہیں زمین مل جائے گی۔

آزادی سے قبل ’بھارت چھوڑو تحریک‘ کے دوران اس تھیئٹر گروپ کی بنیاد اس دور کی نامور شخصیات خواجہ احمد عباس‘ ڈاکٹر بھابھا، علی سردار جعفری اور دادا شرملکر نے رکھی تھی۔ مقصد صرف ڈرامہ کرنا نہیں تھا بلکہ اس وقت عوام کو ملک کے سماجی حالات سے روشناس کرانا تھا۔ اس وقت کے ادیبوں، فنکاروں اور شعراء نے اسی لیے اپنے تھیئٹر کو اپنی تحریک کا حصہ بنایا اور پھر اس گروپ سے ملک کی نامور ہستیاں منسلک ہوتی چلی گئیں جس میں انقلابی شاعر کیفی اعظمی‘ ساحر لدھیانوی‘ بلراج ساہنی‘ مجروح سلطانپوری‘ عصمت چغتائی‘ دیو آنند‘ حبیب تنویر‘ خیام‘ پنڈت روی شنکر‘ ایم ایس ستھیو‘ رمیش تلوار‘ جاوید صدیقی‘ شبانہ اعظمی‘ قادر خان اور فاروق شیخ کے نام قابل ذکر ہیں۔

اردو کے نامور ڈرامہ نویس اور کردار آرٹ اکیڈمی کے بانی اقبال نیازی نے بی بی سی سے ملک میں اردو ڈرامہ کے مستقبل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر یوں کہا جائے کہ ملک میں اردو اور ہندی تھیئٹر کا مستقبل بہت شاندار نہیں تو بہت برا بھی نہیں ہے۔ خالص ادبی اور سماجی ڈراموں کو دیکھنے کے لیے آنے والے لوگوں کی تعداد میں اب اضافہ ہو رہا ہے جو اس بات کا غماز ہے کہ لوگوں میں اب اس کا شعور ایک بار پھر پیدا ہو رہا ہے۔‘

اِپٹا کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ایسے دور میں چونسٹھ برسوں تک خود کو زندہ رکھنا ہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ حالانکہ اس تھیئٹر سے جڑے زیادہ تر فنکار اب فلموں میں یا اپنی فنی دنیا میں گم ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی یہ گروپ ہر سال کم از کم دو ڈرامے تو کرتا ہے اور فنکار معاوضہ نہیں لیتے۔

’ایکجُٹ‘ کے25 سال
سنجیدہ اور تعمیری تھیٹر کی چوتھائی صدی
بالی وڈ اور اردوممبئی مذاکرے کا حال
بالی وڈ اور اردو کا رشتہ ہمیشہ رہے گا
کسنگ کنگپیسہ لگتا کہاں ہے؟
بالی وڈ ڈائری: ایک گانے کے لیے طیارہ چارٹر ہوا
ڈرامہ ’لندن جل رہا ہے‘’لندن جل رہا ہے‘
لندن دھماکوں کی بازگشت بھارتی تھیٹر میں
سرحدوں کی انارکلی
کیا لاہورکی فضامیں سلیم کی محبت پھرجاگے گی
اسی بارے میں
’یہ ہے بالی وڈ میری جان‘
03 April, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد