دھماکوں کی بازگشت تھیٹر میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن بم دھماکوں کی باز گشت بھارت کے علاقائی تھیٹر میں سنائی دینے لگی ہے۔ ان بم دھماکوں کے ایک ماہ بعد بھارت کا ایک علاقائی تھیٹر گروپ کلکتہ میں ان حملوں پر مبنی ایک کھیل کو آخری شکل دینے میں مصروف ہے۔ ’لندن جل رہا ہے‘ نامی یہ کھیل جس کا ایک سفری تھیٹر میں ’جاترا‘ کی صورت میں پیش کیا جائے گا۔ ’جاترا‘ کی روایت بھارت کے مشرقی علاقے کے دیہاتوں میں صدیوں سے مقبول ہے۔ ’جاترا‘ اصل میں چار گھنٹے پر مشتمل ایک ایسا کھیل ہوتا ہے جس میں کھلے میدان تلے تیز موسیقی اور روشنیوں میں بھڑکیلے کردار پیش کیے جاتے ہیں لیکن دیبی جوائی اوپرا جیسے گروپوں کا ماننا ہے کہ اب ایسے کھیل جو کہ سنسنی خیز خبروں پر مبنی ہوں دیہاتی عوام میں زیادہ مقبول ہو رہے ہیں۔ دیبی جوائی اوپرا کلکتہ کے پچپن سے زیادہ جاترا گروپوں میں سے ایک ہے اور اس کے ہدایتکار ہردھان رائے اپنے گروپ میں شامل دو سو سے زیادہ اداکاروں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اس کھیل کو اکتوبر کے وسط تک سٹیج پر لے آئیں۔ اس گروپ نے بھارت بھر سےایسے کاریگروں کو ملازم رکھا ہے جو لندن کی مشہور عمارتوں، ٹرینوں اور بسوں کے نمونے بنائیں گے۔ ہردھان رائے کا کہنا تھا کہ’ ہم اس کھیل میں دھماکوں سے لے کر اکتوبر تک دھماکوں سے متعلق ہونے والے واقعات کو پیش کریں گے‘۔ ان کے مطابق اس کھیل کا ہیرو سکاٹ لینڈ یارڈ کا ایک افسر ہو گا جس کا کردار ایک گندمی رنگت والا بنگالی اداکار نبھائے گا۔ یہ ہیرو ایسی ٹوٹی پھوٹی انگریزی بولے گا جو کہ اس تھیٹر کو دیکھنے والے سمجھ سکیں۔ برطانوی وزیرِاعظم کا کردار اڑتالیس سالہ پارتھا سراتھی ادا کریں گے جو کہ اس قبل بھی جاترا میں مختلف بین الاقوامی شخصیات کے کردار نبھا چکے ہیں۔ رائے کا کہنا ہے کہ اس کھیل کا مقصد ایک پیغام دینا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہم اس کھیل میں لندن کی کثیرالقومی زندگی دکھانے کی کوشش کریں گے۔ ہردھان رائے کا کہنا ہے کہ چار ایکٹ کے اس کھیل میں آتشبازی کا بھی استعمال ہو گا۔ ڈرامے کے ایکشن مناظر پس منظر میں ایک چالیس فٹ لمبے چبوترے پر پیش کیے جائیں گے جبکہ ڈدرامہ پیش منظر میں سٹیج پر پیش کیا جائے گا۔ ’لندن جل رہا ہے‘ کی نمائش کے آعاز سے قبل ہی پہلی پچھہتر راتوں کے ٹکٹ بک چکے ہیں۔ اس ڈرامے کے پوسٹر پر ڈرامے کی ساری کاسٹ کے علاوہ لندن کی بلند و بالا عمارات دکھانے کی کوشش کی گئی ہے جو کہ لندن کی کم اور نیویارک کی زیادہ لگتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||