سرحدوں کی انارکلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں ’لائٹ اینڈ ساؤنڈ‘ تھیٹر اور ادب کی دنیا کی ایک بڑی شخصیت ولایت جعفری کی خواہش ہے کہ وہ اپنےڈرامہ ’انارکلی‘ کو اسی کے شہر لاہور میں پیش کریں۔ ولایت جعفری کا خیال ہے کہ انارکلی کی محبت کی داستان لاہور کی فضاؤں میں گونجے گی تو اس سے شہزادہ سلیم اور کنیز انارکلی کی محبت ایک بار پھر زندہ ہو جائےگی۔ ولایت جعفری کئی برسوں سے مختلف داستانوں کو ’لائٹ اینڈ ساؤنڈ‘ یعنی رنگ برنگی روشنی اور مختلف آوازوں کے زریعے ناظرین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اس طرح کے پروگرام کی شروعات انہوں نے 1965 میں جلیاں والاباغ سے شروع کی تھی۔ وہ شو ہندستان کا پہلا ’لائٹ اینڈ ساؤنڈ شو‘ تھا۔ شو کی مقبولیت کے ساتھ ہی مسٹر جعفری کی مقبولیت کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ ’لائٹ اینڈ ساؤنڈ‘ شو کی خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’دل سے دل کی بات سیدھے اپنے شائقین تک پہنچانے کے لئے روشنی اور آواز سے اچھا دوسرا کوئی زریعہ نہیں ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کے شو میں کامیابی کا دارومدآر مکالمہ نگار پرہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ کون سی بات کب ،کتنی اور کیسے کہی جائے یہ ہنر لکھنے والے میں ہونا چاہیئے۔اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں کہانی کی سب سے ضروری بات اندھیرے میں کہی جاتی ہے۔‘ جعفری نے ’انارکلی‘ کو سب سے پہلے نے 1980 میں چندي گڑھ میں پیش کیا تھا۔ یہ ایک ایسی کنیز کی کہانی ہے جو شہزادے سلیم سے محبت کرنے کی جرات کرتی ہے اور اس جرم کی سزا کے طور پر اسے زندہ دیوار میں چنو ا دیا جاتا ہے۔ جعفری بتاتے ہیں کہ انارکلی کا شو تقریبا 70 منٹ کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ناٹک کا سب سے بہترین منظر وہ ہے جب انارکلی کو زندہ دیوار میں چنوا دیا جاتا ہے۔اس ڈرامہ کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں کوئی ’ کمنٹری‘ نہیں ہے۔ انارکلی سے خاص لگاؤ کے سبب مسٹر جعفری کی خواہش ہے کہ وہ یہ ڈرامہ انارکلی کے اپنے شہر لاہور میں پیش کریں جس سے انکے فن کے ذریعے دونوں کی محبت دوبارہ زندہ ہو جائے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے رشتوں کے درمیان جعفری بہت پر امید ہیں کہ وہ یہ ڈرامہ ایک دن لاہور کے قلعہ میں پیش کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||