BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 April, 2005, 21:12 GMT 02:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور: فیشن شواور برائیڈل ویوز2005

مس سری لنکا
مس سری لنکا دو ہزار پانچ جو لاہور لہ دلہن فیشن شو میں شرکت کرنے کے لیے آ رہی ہیں
لاہور میں برائیڈل ویوز 2005 کے نام سے ایک ایسا فیشن شوہورہا ہے جس میں شرکت کے لیے ’مس سری لنکا‘ آرہی ہیں۔

فیشن شو اور برائیڈل ویوز دو ہزار پانچ کے نام سے ہونے والےاس پروگرام میں پاکستان ، بھارت بنگلہ دیش اور سری لنکا کے روایتی عروسی لباس اور دلہن کے بناؤ سنگھار پر مبنی سامان کی نمائش کی جارہی ہے۔

لاہور کے الحمرا ہال کے سبزہ زار میں کل اس تین روزہ پروگرام کا افتتاح ہوجائے گا جہاں سارک کے ان چاروں بڑے ممالک کے فیشن ڈیزائنرز، جیولرز اور میک اپ کا سامان فروخت کرنے والے اداروں کے نمائندگان نے اپنے سٹال لگائے ہیں۔

اس پروگرام میں چاروں ملکوں کی ماڈلز دلہن کی طرح سج کر دکھائیں گی۔روایتی عروسی جوڑے پہن کر اور بناؤ سنگھار کر کے اپنے اپنے ملک کی نمائندگی کریں گی اور سٹیج پر کیٹ واک کریں گی۔

اس شو کے منتظمین میں پاکستان کے مشہور ماڈل میکائل اور لاہور چمبر آف کامرس کے عہدیدار عاصم قادری شامل ہیں۔انہوں نے چاروں ممالک کے مندوبین کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں اس شو کی تفصیلات بتائیں۔

انہوں نے بتایا کہ بعض ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں اس نوعیت کےشو باقاعدگی سے ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے اور اس کے بعد سے ہر سال ایسے دو پروگرام لاہور اور کراچی میں منعقد ہوا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سنیچر سے شروع ہونے والے اس پرواگرام میں چاروں ممالک کے چالیس فیشن ڈیزائنر اپنے اپنے سٹال لگائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس نمائش سے ہمسایہ ممالک کو ایک دوسرے کے کلچر اور رہن سہن کو سمجھنے میں مدد تو ملے گی ہی اس کے علاوہ اس فیشن انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے اداروں کو بھی کاروباری مواقع میسر ہونگے اور صارف ایک ہی مقام پر تمام اشیا کا معائنہ کر سکیں گے۔‘

ان فیشن شوز میں شرکت کے لیے چھبیس رکنی بھارتی وفد ،دس ماڈل گرلز کے ہمراہ لاہور پہنچ چکا ہے ان کے علاوہ سری لنکا اور بنگلہ دیش کے مندوبین نے بھی پہنچنا شروع کر دیا ہے۔

پاکستان کے سید عاصم قادری نے کہا کہ ’بھارت کے لوگوں کو جب دعوت دی گئی تو انہوں نے لاہور کا نام سنتے ہی فورا حامی بھر لی تھی اور لاہور کی خاص بات اس کے اونچے برج ہیں اس لیے اس شو کا تھیم ’اچے برج لاہور دے رکھا گیا ہے۔‘

بھارت کے شانتن نکھل نے کہا کہ فیشن کے لحاظ سے لاہور پاکستان میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے اس لیے یہاں آنے سے انکار ہو ہی نہیں سکتا تھا۔لاہور کے لوگوں کا پرجوش اندازِ میزبانی متاثر کن ہے۔

ایک بنگالی فیشن ڈیزائنر صبا خان کا کہنا تھا وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ فیشن کے میدان میں بنگلہ دیش میں کتنا ٹیلنٹ ہے۔‘

پاکستانی فیشن ڈیزائنر ماہین کا کہنا تھا کہ اگر چاروں ہمسایہ ممالک ملکر کام کریں تو فیشن کے شعبے میں مغرب کے لیے بہت کچھ برآمد کیا جاسکتا ہے۔

بنگلہ دیشں کی معروف فیشن ڈیزائنر رینا لطیف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان اور بھارت کا فیشن آپس میں ملتا جلتا ہے اور انہیں یوں لگتا ہے کہ پاکستان پربھارتی فیشن حاوی ہے لیکن بنگلہ دیش کا فیشن بالکل مختلف اور اپنی طرز کا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’دلہنوں سےہٹ کر عام فیشن میں بھارت اور پاکستان میں مغرب اثر انداز ہوا ہے۔‘

سری لنکا کی یولن نے بتایا کہ انہیں ہمسایہ ملکوں کی تہذیب کو فیشن میں ان کی طرز دیکھنے کو مل رہی ہے جس سے سری لنکا کے اندر فیشن میں جدت لانے کے مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ مس سری لنکا کو مس یونیورس کے مقابلہ حسن کے لیے نامزد کیا جاچکا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والے اس شو میں شرکت کے لیےسری لنکا میں دو ہزار پانچ کے لیےخوبصورت ترین قرار دی جانے والی خاتون بھی کل لاہور پہنچ رہی ہیں ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد