 |  پاکستانی ڈیزائنر نیلوفر شاہد کا نئی دہلی میں ایک شو |
انڈیا اور پاکستان میں حالیہ برسوں میں دلہن کے لباس میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں۔ عروسی ملبوسات میں پہلے روایات کا زیادہ اثر ہوتا تھا مگر اب کچھ عرصے سے جدیدیت کا ایک عنصر صاف دکھائی دے رہا ہے۔ دلہن کے لباس میں مغربی فیشن کے اثرات بھی کہیں کہیں نظر آنے لگے ہیں۔ فیشن میں اس تبدیلی کی وجوہات فلمیں، سیٹیلائٹ ٹی وی پروگرام، فیشن کے غیرملکی رسالوں کی مقبولیت وغیرہ ہیں۔ فیشن میں تبدیلیاں صرف شادی کے جوڑوں تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ کی زندگی میں بھی نمایاں ہورہی ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ فیشن انڈسٹری عام لوگوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کررہی ہے اور فیشن کی وجہ سے اب عوام بھی ایک سلیقے سے جینے کا ڈھنگ سیکھ رہے ہیں۔ آپ کی نظر میں گزشتہ چند عشروں میں لباس، فیشن اور عوام کے طرز زندگی میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں اور کیوں؟ ایک عشرے قبل آپ کون سا لباس پہنتے تھے اور اب آپ کی لباس کیا ہے؟ کیا آپ کی نظر میں یہ تبدیلیاں ذرائع ابلاغ کی وجہ سے آرہی ہیں؟ کیا فیشن کے لئے روایات کو ترک کردینا ٹھیک ہے؟ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
کاشف اسلام، لاہور: جدیدیت کے بہت سے رنگوں کو دیکھنے کے لیے زمانہِ حال کے فیشن پر ایک نظر ڈالیے۔ فی زمانہ عروسی ملبوسات خاصے مغرب زدہ دکھائی دیتے ہیں۔ اب بھاری بھرکم غراروں/لہنگوں کا رواج نسبتاً کم ہوتا جا رہا ہے لیکن آج سے چند سال پہلے عروسی ملبوسات کے لیے محض چند رنگ مختص ہوا کرتے تھے جیسے کہ سرخ، میرون یا زرد مگر آج سفید سے لیکر ہر رنگ دورِ جدید کے ملبوسات کا خاصا سمجھا جا رہا ہے۔ گو فیشن کے موجودہ رنگ کم وبیش وہی ہیں جو آج سے تین عشرے قبل تھے جیسے کہ بیل باٹم، چولی یا بیل سلیوز مگر جو تبدیلی محسوس کی جا سکتی ہے وہ کسی حد تک عریانیت کی ایک نسبتاً بہتر شکل ہے۔ ان گونا گوں تبدیلیوں کا ایک مظہر تیزی سے سمٹتی دنیا، بہت سے ٹی وی چینلز اور فیشن سے متعلق رنگا رنگ پروگرام ہیں۔ بہر صورت تبدیلی کہیں سے بھی آئے، اگر خوش آئند ہو تو اسے خوش آمدید کہنے میں کوئی حرج نہیں۔آصلہ صدیقہ، کراچی: فیشن انڈسٹری نے ہم کو جینے کا نہیں، رونے کا ہنر سکھایا ہے کیونکہ اس صنعت کی بنیاد ہی سرمایہ داری پر ہے جس میں امیر امیر اور غریب غریب ہوتا جا رہا ہے۔ میڈیا ہمیں یہ دکھا رہا ہے کہ فیشن بہت اچھی چیز ہے اور فیشن کرنے والے کامیاب اور خوش لوگ ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔ مومنہ عروج، امریکہ: فیشن آج کل کی ضرورت ہے۔ جوں جوں وقت بدلا ہے، لباس بھی بدلا ہے۔ میری نظر میں جس طرح ملک ترقی کر رہا ہے، یہ سب ٹھیک ہے۔ نوید عاصم، جدہ: ایک عشرہ پہلے میں پندرہ سال کا تھا اور طالبِ علم تھا اور اب پچیس سال کا ہوں اور ملازمت کرتا ہوں۔ لباس کا سائز اور انداز دونوں ہی بدل گئے ہیں۔ کیونکہ اب میں تھوڑا بڑا ہوں۔ روایت کوئی مذہب کا حصہ تو نہیں کہ بدل نہیں سکتی۔ یہ تو علاقے اور ماحول پر منحصر ہے کہ کون سا لباس پہنیں۔ علی عمران شاہین، لاہور: بھائی ہم تو میڈیا ویڈیا سے متاثر ہونے والے لوگ نہیں۔ کیوں کسی کو دیکھ کر اپنا آپ بدلیں۔ ہم جیسا پہنتے تھے، ویسا ہی پہنتے ہیں اور ایسا ہی پہنتے رہیں گے۔ فیشن شوز لوگوں کے مسائل میں اضافہ کا باعث ہیں اور یہی حال میڈیا کا ہے۔ میرا خیال ہے کہ انسان کو دوسروں کی پسند کی خاطر اپنی مرضی تبدیل نہیں کرنی چاہیے۔  | قربِ قیامت  بس جی قربِ قیامت کی نشانیاں ہیں۔ شاید کپڑے کی بچت کو فیشن اور جدیدیت کا نام دے دیا گیا ہے۔  تحسین رضا، ڈیرہ اسماعیل خان |
تحسین رضا، ڈیرہ اسماعیل خان: بس جی قربِ قیامت کی نشانیاں ہیں۔ شاید کپڑے کی بچت کو فیشن اور جدیدیت کا نام دے دیا گیا ہے۔ کچھ بھی ہو یہ فیشن ہمارے معاشرے میں رائج اقدار کے بالکل منافی ہے۔آفتاب خانزادہ، حیدرآباد: فیشن میں روایت کو زندہ رہنا چاہیے کیونکہ ہماری روایات اچھی اور تہذیب کے دائرے میں ہوتی تھیں۔ فیشن کے اس نئے رحجان پر قابو پانا چاہیے کیونکہ یہ ہمیں روایت سے دور لے جا رہا ہے۔ فیشن میں بے راہ روی کی ذمہ داری میڈیا پر ہی ہے۔ عفاف اظہر، ٹورنٹو: فیشن کرنا جائز ہے مگر اسی حد تک کہ انسان انسان ہی لگے نہ کہ کوئی اور مخلوق جیسا کہ آج کل ہورہا ہے۔ اچھی خاصی شکلیں فیشن کے چکر میں بھیانک ہوجاتی ہیں۔ فرزانہ اسلم، ٹورنٹو: فیشن اور اپنی زندگی بہتر بنانے میں ایک واضح فرق ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ جب تک فیشن اچھا محسوس کرنے اور آپ جو پہنتے ہیں، اس پر توجہ دینے کے لیے کرتے ہیں تو یہ آپ تک محدود رہتا ہے۔ لیکن جب آپ معاشرے کے دیکھا دیکھی فیشن صرف دکھاوے کے لیے کرتے ہیں تو نہ صرف آپ اپنا بوجھ بڑھا لیتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی زندگی دشوار بنا دیتے ہیں جو اتنا خرچ نہیں کر سکتے۔ لوگوں کے اس ان دنوں زیادہ پیسہ ہے۔ کچھ برس پہلے مجھے رنگوں کا ویسے اندازہ نہیں تھا لیکن آج میڈیا ہماری زندگی پر بہت اثرانداز ہورہا ہے اور حقیقت کی اصل شکل نہیں دکھا رہا۔ ’ٹرینڈی‘ ہونے میں کوئی حرج نہیں لیکن اپنی حدود اور اقدار سے باہر نکل جانا درست نہیں ہے۔ فواد احمد قریشی، پاکستان: تبدیلیاں آئی ہیں لیکن زیادہ تر خواتین کے فیشن میں۔، مرد تو ابھی تک وہی پتلون یا شلوار قمیض ہی پہنتے ہیں۔ عورتوں نے تو اپنی روایت ہی بدل ڈالی ہے۔ جسم کے دکھانے پر لڑکی کو ’ماڈ‘ اور بہتر کپڑے پہننے والی سمجھا جاتا ہے اور اس میں میڈیا کا بہت ہاتھ ہے۔ نبیل رانا، سیالکوٹ: جی ہاں فیشن ہماری زندگی میں بہت اہم ہے اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے یہ ہم پر بہت اثر پذیر ہورہا ہے۔ عمران خان سیال، پاکستان: پہلے لوگ فیشن اس لیے کرتے تھے کہ وہ بار بار ایک جیسے کپڑے پہن کر بور ہوجاتے تھے لیکن اب یہ جسم دکھانے کا طریقہ بنتا جارہا ہے۔ طاہر نواز، پاکستان: دوسرے لوگوں سے بہتر نظر آنے کے لیے ہم فیشن کرتے ہیں اور فیشن ہی روایت ہے کیونکہ ہر روایت کبھی نہ کبھی فیشن رہی ہوتی ہے۔ یاسر ہزاروی، اٹک: وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی تو آتی ہی ہے اور ویسے بھی ہم لوگوں پر انگریزوں کا رنگ بہت چڑھتا ہے کنول زہرا، لاہور، پاکستان: رواج چاہے کسی بھی ملک کا ہو، وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلیاں آتی رہتی ہے۔ پہلے یہ تبدیلیاں کسی اور علاقے کے لوگوں کے ساتھ میل جول کی وجہ سے آتی تھیں لیکن اب چونکہ دنیا ایک گلوبل ولیج میں بدل چکی ہے تو یہ تبدیلیاں تیزی کے ساتھ رونما ہورہی ہیں اور ذرائع ابلاغ اس میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ تبدیلیوں کو قبول کرنا ہی دنیا میں خوش رہنے کا اچھا اصول ہے۔ پھر روایات تو بدلتی ہی رہتی ہیں۔ محمد فیصل، چکوال: فیشن جنسی ترغیب کا شریفانہ انداز ہے۔ یہ غربت کا مذاق ہے اور تباہی کا راستہ ہے۔  | فیشن کے بغیر عورت نامکمل  ہمارے ہاں فیشن میں اتنی ترقی نہیں ہوئی جتنی کہ ہونی چاہیے۔  زہرہ جبیں، بشاور |
زہرہ جبیں، بشاور: فیشن کے بغیر عورت نامکمل ہے۔ ہمارے ہاں فیشن میں اتنی ترقی نہیں ہوئی جتنی کہ ہونی چاہیے۔ نعمان احمد، راوالپنڈی: فیشن میں نت نئی تبدیلیوں کی وجہ اگرچہ میڈیا تو ہے لیکن اسکے پیچھے دراصل سرمایہ دار کا چالاک ذہن ہے۔ برصغیر جیسے پس ماندہ خطے میں جہاں لوگوں کو پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں، وہ بھلا کیا فیشن کریں گے۔ تہذیب کے دائرے میں رہ کر فیشن کرنا کوئی بری بات نہیں اور مثبت تبدیلیوں کو خوش آمدید بھی کہنا چاہیےلیکن کسی بھی نئے فیشن کو اپنانے سے قبل اگر اپنے معاشرے کی روایات کو بھی مدِّ نظر رکھ لیا جائے تو بہت بہتر ہے ورنہ مشرق اور مغرب میں کیا فرق رہ جائے گا۔ صوفیہ بٹ، ناروے: مجھے فیشن کے حساب سے کپڑے پہننا اچھا لگتا ہے لیکن مجھے وہ فیشن ہرگز نہیں پسند جو ہماری ثقافت کے خلاف ہو۔ آج کل فیشن صرف جنسی کشش کو ابھارنا ہی رہ گیا ہے۔ راحیل علوی، لاہور: یہ بات درست ہے کہ گزشتہ ایک عشرے میں فیشن کے حوالے سے کافی تبدیلیاں آئی ہیں اور اس میں سب سے بڑا کردار میڈیا کا ہے۔ پاکستان میں میڈیا نے کافی ترقی کی ہے۔ یہاں تک کہ فیشن چینلز تک آگئے ہیں خاص طور پر مشرف کے دور میں۔ ہمارے ہاں انڈیا کے ڈراموں اور فلموں کا بھی بہت بڑا کردار ہے۔ پھر انٹرنیٹ بھی ایک ذریعہ ہے جس سے پوری دنیا تک رسائی ہوجاتی ہے۔ اسی ایک عشرے میں پاکستان کے ماڈلز اور ڈیزائنر بھی بہت مقبول ہوئے ہیں اور ان کی نقل بھی بہت کی جاتی ہے۔ اب ہم بازار جاتے ہیں تو کوشش کرتے ہیں کہ ’ڈیزائنرز کلاتھز‘ خریدیں۔ میں ساٹھ فیصد تک ایسے ہی کپڑے پہنتا ہوں اور اس کا سہرا میڈیا ہی کے سر ہے، خصوصاً سٹار پلس کے ڈراموں کا۔ جاوید اقبال ملک، چکوال: ایک مسلمان کے طور پر میں فیشن کا قائل نہیں۔ یہ سب امیروں کے چونچلے ہیں۔ اصل مزا سادگی میں ہے۔ ویسے بھی کسی کی نقل کرنا انسان کی شخصیت پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اے ایس خان، اٹک: میرے خیال میں تبدیلی آنی چاہیے لیکن اتنی نہیں کہ ہم اپنا سب کچھ بھول جائیں۔ عبداللہ احمدزادہ، پاکستان: میرے نزدیک درزی کی غلطی ہی نیا فیشن ہے۔ آج کل ویسے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ ننگے گھومیں یا کپڑے پہن کر۔ دیکھیں انسانی آزادی کہاں تک لے جاتی ہے۔ راجہ عبدالجبار، دوبئی: میرے خیال میں کوئی بھی عورت جتنا اپنے جسم کو ڈھانپ کر رکھے گی اتنا ہی خوبصورت لگے گی۔ عدیل امتیاز، لندن: ہم مسلمانوں کی عقلوں پر پردے پڑ گئے ہیں۔ ہماری عورتیں سمجھتی ہیں کہ ننگا ہونے میں بہت آزادی ہے۔  | اپنی ثقافت اور معاشرہ  اگر آپ کسی اور ثقافت اور تہذیب کو اپنانا شروع کردیں تو آپ اپنا تشخص بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔  صالحہ محمود، راوالپنڈی |
صالحہ محمود، راوالپنڈی: فیشن تو وقت کے ساتھ بدلتا ہی رہتا ہے اور اسے آپ روک نہیں سکتے۔ اصل بات ہوتی ہے اپنی ثقافت اور معاشرے کی۔ اگر آپ کسی اور ثقافت اور تہذیب کو اپنانا شروع کردیں تو آپ اپنا تشخص بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔عمران ہاشمی، برطانیہ: یہ میڈیا کی جنگ کا زمانہ ہے۔ جن قوموں کی معیشت اور مستقبل کی منصوبہ بندی بہتر ہوگی وہ ہر میدان میں جیتیں گے۔ حمید الحق، کراچی: کھاؤ ہمیشہ وہ جو دل کو بھائے اور پہنو ہمیشہ وہ جو دیکھنے والے کو بھائے۔ ہلال باری، لندن: فیشن اور جہادیت کی وجہ سے پوری پاکستانی سوسائٹی میں شدید فرسٹریشن پیدا ہورہی ہے۔ پیسہ کمانے کے لیے ہر طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ معاشرے کو ہر طبقے میں سادگی کی شدید ضرورت ہے۔ فیصل چانڈیو، حیدرآباد: بیہودگی کو فیشن کا نام دے دیا ہے، بس یہی ترقی ہوئی ہے دنیا میں اور وہ بھی صرف رئیسوں تک ہی ہے، غریب آدمی تو بھوک مٹانے کے لیے ہی پریشان رہتا ہے۔ |