| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پرانی تہذیب نیا فیشن
تحریر: سعدیہ دہلوی، دہلی جاڑے کی آمد سے قبل دہلی میں فیشن شوز کا دور شروع ہو جاتا ہے۔ درگا پوجا اور دیوالی جیسے بڑے تہواروں کی تیاری کے ساتھ شادیوں کا بھی یہی سیزن ہے۔ شہر کے بازاروں میں ہر جگہ ’سیل‘ لگی ہوئی ہے اور لوگ دکانوں کی طرف ایسے ٹوٹے پڑ رہے ہیں جیسے مفت مال تقسیم ہو رہا ہو۔ ایک زمانہ تھا کہ دہلی فیشن کے معاملے میں ایک دقیانوسی شہر مانا جاتا تھا۔ چونکہ اکثریت پنجابیوں کی ہے اس لئے لے دے کر شلوار قمیض اور ساڑھیوں کا پہناوا رہا۔ فیشن کی ابتدا ممبئی سے ہوا کرتی تھی۔ اب کچھ سالوں سے دہلی ہندوستانی فیشن کا مرکز بن گیا ہے۔ زیادہ تر نامی گرامی ڈیزائنر جیسے رینادھاکا، ترون تہلیانی، جے جے وادیا، روہتبال اور مظفر علی وغیرہ اسی شہر میں رہتے ہیں۔
دہلی میں نئے پیسے والے بہت ہیں جو فیشن کا شکار خوشی خوشی بن جاتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں سے فیشن کا یہ سلسلہ عروج پر ہے۔ ہمیں تو سچ پوچھیں فیشن شوز سے کچھ گھن سی آنے لگی ہے اور ان میں شرکت کرنا بالکل بند کر دیا ہے۔ سٹیج پر ننگا پن تو بڑھ ہی گیا تھا لیکن اب تو عجیب عجیب حرکتیں ہو رہی ہیں۔ حال ہی میں روہتبال کے ایک شو میں ماڈل کرنے والوں لڑکوں نے مانگ میں سیندور بھر رکھا تھا۔ کسی اور فیشن شو میں لڑکیاں ایک دوسرے کے ہونٹوں کو چوم رہی تھیں۔ ان فیشن شوز میں ایسے ملبوسات ہوتے ہیں جن کو کوئی زیب تن نہیں کر سکتا۔ یہ زیادہ تر پبلسٹی کےلئے پہنائے جاتے ہیں اور ان کوگلیمر کےلئے بھوکا میڈیا چھاپتا رہتا ہے۔
پاکستانی احباب جب دہلی آتے ہیں تو اکثر ہمیں نامی گرامی ڈیزائنروں کی فہرست پکڑاتے ہیں۔ یقیناً وہ ان کے فیشن شوز ٹی وی پر دیکھ کر متاثر ہوئے ہوں گے۔ جب ہم ان کو ڈیزائنروں کے شوز میں لے جاتے ہیں تو ملبوسات کی قیمت سن کر وہ بھاگ جاتے ہیں۔ پھر ہم ان کو پرانی دہلی اور قرولباغ جیسے بازاروں میں لے کر جاتے ہیں جہاں ڈیزائنر کپڑوں کی نقلیں چوتھائی قیمت پر مل جاتی ہیں اور فلموں میں پہنے کپڑوں کی نقلیں بھی مل جاتی ہیں۔ جو کپڑے ہائی فیشن کے نام پر لاکھوں میں بکتے ہیں ان کے بنانے والے کاریگروں کو شاید دس بیس روپے فی گھنٹہ ہی ملتا ہے۔ ہمیں انڈیا کی فیشن انڈسٹری ایک مذاق لگتی ہے۔ بے شک چند لوگوں کا کام اچھا ہے لیکن باقی تو شہرت حاصل کرکے میڈیا اور لوگوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو ہمیں اپنے شہر میں کئی صدیاں ہم آہنگ ملتی ہیں۔ ہماری رہائش دہلی میں نظام الدین کے علاقہ میں ہے جہاں حضرت نظام الدین کی درگاہ قریب ہی ہے۔ مرسیڈیز کے ساتھ سڑکوں پر سائیکل رکشے چلتے ہیں۔ انٹرنیٹ کیفے کے باہر فقیروں کی لائن لگتی ہے۔ اسی طرح برقعہ پہنی عورتوں کے ساتھ جینز پہنے ہوئی لڑکیاں بھی نظر آتی ہیں۔ فیشن کی دنیا ہندوستانی حقیقت سے بہت دور ہے۔ ملٹی نیشنلز ہم لوگوں کو بہت تیزی سے کنزیومر سوسائٹی بنا رہے ہیں۔ ہم اس پود سے ہیں جہاں پیسے کا دکھاوا کم ظرفی سمجھا جاتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ اب تو یہ ہے کہ جو ہے اس کی نمائش لازمی ہے چاہے وہ پیسہ ہو یا خوبصورت جسم۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||