حق بہ حق دار رسید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لُدھیانہ کے ادیبوں اور شاعروں نے نوجوان قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کے لئے جِس ’ساحر لُدھیانوی ایوارڈ‘ کا اجراء کیا ہے اسے حاصل کرنے والوں میں اِس برس کچھ پاکستانی ادیب بھی شامل تھے لیکن ویزے کی مشکلات کے باعث پاکستانی انعام یافتگان اپنا ایوارڈ موصول کرنے کے لیے بروقت بھارت نہ جاسکے۔ اِس تاخیر کا کفّارہ خود بھارتی ادیبوں نے ادا کردیا یعنی پاکستانیوں کے ایوارڈز لے کر لاہور چلے آئے اور یوں حق داروں کو اُن کا حق گھروں ہی پہ پہنچا دیا۔ لاہور میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران اظہر جاوید، ڈاکٹر شائستہ نُزہت اور کہانی کار بشریٰ اعجاز کو ساحر لُدھیانوی ایوارڈ دیئے گئے۔ قلم کار دانشور اور مدیر اظہر جاوید نے اس موقعے پر کہا کہ جس طرح بھارت والے ہمارے ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کو نوازتے ہیں، ہمیں بھی جواباً اسی طرح کی خیرسگالی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے اور ساحر لُدھیانوی ایوارڈ کی طرح یہاں سے اقبال ایوارڈ اور فیض ایوارڈ کا اجراء کرنا چاہیئے تاکہ ہندوستان میں فیض اور اقبال پر کام کرنے والے ادیبوں اور محققوں کی حوصلہ افزائی ہوسکے اور دونوں ملکوں کے عوام میں رابطے بڑھانے کا ایک اور راستہ بھی کُھل سکے۔ پنجابی زبان اور ادب کی محقق ڈاکٹر شائستہ نزہت نے اپنا ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد کہا کہ شاعر اور ادیب کی آنکھ کے پیچھے ایک دُوربین لگی ہوتی ہے جس کی بدولت وہ آنے والے دَور کی ایک دُھندلی سی تصویر بہت پہلے دیکھ لیتا ہے جبکہ سیاست دانوں کی نگاہ بہت دیر میں وہاں تک پہنچتی ہے۔ چنانچہ پاک ہند کے عوام کو قریب تر لانے کا بِیڑا بھی پہلے دانشوروں ہی نے اُٹھایا تھا۔ ڈاکٹر نزہت
پاکستانی کہانی کار اور نثرنگار بشریٰ اعجاز کے کام پر پٹیالہ یونیورسٹی میں پی۔ ایچ۔ ڈی کا مقالہ لکھا جا رہا ہے۔ اپنا ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد انھوں نے ساحر لدھیانوی کی شاعری پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ساحر کو محض ایک ہنگامی شاعر کہہ کر ایک طرف رکھ دینا ممکن نہیں کیونکہ جس صورتِ حال کے خلاف ساحر نے عَلمِ بغاوت بلند کیا تھا وہ آج بھی جُوں کی توں ہے۔ عالمی سامراج ایک نیا چولا بدل کر وہی پرانے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے اور مقامی سطح پر بھی ہر جگہ سامراجی گماشتے اپنے آقاؤں کو مسرور و مطمئن رکھنے کےلئے ’جعفراز بنگال و صادق از دکن‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ معاشرے پر جب تک جبر کی حُکمرانی ہے، ساحر کی شاعری زندہ رہے گی اور مشقت کی چکی میں پسنے والوں کو ساحر کا یہ پیغام پہنچاتی رہے گی کہ: صدرِ مجلس حمید اختر نے اپنے خطاب میں ساحر کی کچھ پرانی یادیں تازہ کیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ میں اپنے اخباری کالموں میں اکثر ساحر کا ذکر کرتا رہتا ہوں اور اگر دوچار ہفتوں تک اس موضوع ہر کچھ نہ لکھوں تو میرے قاری بے چین ہوجاتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کے ساحر کے بارے میں کوئی اور بات بتائیے۔ حمید اختر نے کہا کہ لاہور سے رُخصت ہوئے ساحر کو 58 برس ہوگئے ہیں اور اِس دنیا سے کُوچ کئے بھی اسےربع صدی سے زیادہ گزر چکی ہے لیکن لوگ آج بھی اسکی شاعری پڑھتے ہیں، گیت سنتے ہیں اور اسکی باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ لاہور سے ساحر لُدھیانوی کے فرار کے بارے میں کچھ حقائق منظرِ عام پر لاتے ہوئے حمید اختر نے بتایا کہ نظریاتی اختلاف کے باوجود شورش کاشمیری ساحر کے قریبی دوست اور ہم درد تھے۔
انھیں اپنے ذرائع سے معلوم ہو گیا تھا کہ پنجاب پولیس ساحر سے سخت نالاں ہے کیونکہ آئے دِن کسی اِنقلابی یا سرکار مخالف نظم کی وجہ سے ساحر لُدھیانوی زیرِبحث آتا ہے چنانچہ خفیہ پولیس کے چند افسروں نے شورش کاشمیری کو بتایا کہ ساحر لدھیانوی زیرِ عتاب آنے والا ہے اور ہم سب کا بھلا اسی میں ہے کہ وہ کہیں اِدھر اُدھر ہوجائے ورنہ ہم کوئی بہت سخت کارروائی کر بیٹھیں گے۔ شورش نہیں چاہتے تھے کہ اُن کے نوجوان دوست پر پولیس تشدّد کا مرحلہ آئے چنانچہ انھوں نے پولیس کی تنبیہہ کو خوب مرچ مصالحہ لگا کر ساحر کے سامنے اسطرح پیش کیا جیسے پھانسی کا پھندا اسکے گلے کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہو۔ خطرے کی بُو ساحر کو پہلے سے آرہی تھی، شورش کاشمیری کی گفتگو سن کر اس نے راتوں رات یہاں سے فرار ہونے کا انتظام کر لیا۔ حمید اختر کا کہنا ہے کہ ساحر کا فرار زحمت کے پردے میں چھپی ہوئی ایک رحمت تھی جسکا احساس خود ساحر کو برسوں بعد اس وقت ہوا جب وہ بمبئی کا سب سے مہنگا اور نخریلا گیت نگار بن چکا تھا۔
نخریلا اس لئے کہ اس نے موسیقاروں کی بنی بنائی دُھنوں پر الفاظ چپکانے سے صاف انکار کر دیا تھا اور ڈنکے کی چوٹ اعلان کیا تھا کہ فلمی گیت کا اصل جوہر اسکی شاعری ہے۔ موسیقاروں کو چاہیئے کہ وہ شاعر کے کہے ہوئے لفظوں کے مطابق دُھن بنائیں نہ کہ شاعر کو ایک ریڈی میڈ دھُن کے ڈھانچے پر لفظ ڈھالنے کا حُکم صادر کریں۔ ساحر کا نظریہ درست تھا یا غلط، اس پر بحث ہو سکتی ہے لیکن یہ حقیقت سبھی کو ماننی پڑے گی کہ فلمی گیت نگاری کے گِرے پڑے پیشے کو ساحر نے ایک توقیر بخشی اور فلمی دھُن کے پیچھے پیچھے دُم ہلانے والے شاعروں کو اُن کے صحیح مقام و منصب کا احساس دلایا۔
لاہور میں ہونے والا یہ اجتماع کافی حد تک گورنمنٹ کالج لدھیانہ کے اولڈ بوائز کی تقریب محسوس ہورہا تھا کیونکہ اس میں حمید اختر کے پہلو بہ پہلو کیول دھیر، مہندر سنگھ چیمہ اور الیاس راج پیش پیش نظر آرہے تھے۔ | اسی بارے میں ادب کا موضوع جنگ08 September, 2003 | فن فنکار تاریخ ، ادب اور بالی وڈ25 July, 2005 | فن فنکار شہوت انگیز ادب کا جدید کلاسک 09 August, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||