ممبئی کی زندگی’معمول پر‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جہاں ممبئی پولیس تاحال گزشتہ ماہ کے ٹرین دھماکوں کی تفتیش میں مصروف ہے وہیں ممبئی کی روز مرہ زندگی اب معمول پر واپس آ چکی ہے۔ آسٹن نورونہا نےگیارہ جولائی کے بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے اپنے بھائی جوائے کے نام ایک خط لکھا ہے جو یوں شروع ہوتا ہے۔’پیارے بھائی تم سے تمہاری زندگی بلاوجہ کی نفرت اور تشدد نے چھین لی‘۔ آسٹن کی بیٹھک میں حضرت عیسٰی کی ایک بہت بڑی تصویر آویزاں ہے۔ سیلن زدہ دیوار پر اکلوتی ٹیوب لائٹ روشن ہے اور ان کا آبدیدہ اور غمزدہ خاندان وہاں بیٹھا ہوا ہے۔ آسٹن جب اپنے خط کی اختتامی سطریں پڑھتا ہے تو اس کی آواز غم سے تھّرا جاتی ہے۔ ’ الوداع بھائی خدا جنت میں ہمیشہ تمہاری حفاظت کرے یہاں تک کہ ہم دوبارہ ملیں‘۔ دھماکوں کے ایک دن بعد ہی ایک سو اسّی ہلاکتوں کے بعد دنیا بھر کے اخباروں کی شہ سرخیاں یہی تھیں کہ’ممبئی کی زندگی معمول پر واپس‘۔ لیکن ممبئی میں زندگی کی معمول پر واپسی کا مطلب کیا ہے؟ آسٹن کے بتیس سالہ بھتیجے ران کراسٹو کا کہنا ہے کہ ایک کروڑ اسی لاکھ کی آبادی والے اس شہر میں زندگی درحقیقت بھاگ دوڑ ہے۔ ران کا غم غصے کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم ہمیشہ بہتر انفراسٹرکچر کی بھیک مانگتے ہیں اور حکومت کا جواب ہوتا ہے کہ ہم اپنی سی کوشش کر رہے ہیں۔ مجھے بہتر انفراسٹرکچر چاہیئے، مجھے تحفظ چاہیئے کیا یہی طریقہ ہے جینے کا‘۔ ڈاکٹر اپرنا دیش پانڈے ممبئی کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال کنگ ایڈورڈ میموریل ہسپتال میں سرجن ہیں۔ ہر روز ان کے پاس شہر کے غرباء کی ایک بڑی تعداد آتی ہے۔ یہ تھکے ہوئے، بیمار لوگ بنچوں، کرسیوں حتٰی کہ فرش پر علاج کے انتظار میں پڑے رہتے ہیں۔
ڈاکٹر اپرنا کا کہنا ہے کہ’ہمارے پاس روزانہ 6000 مریض آتے ہیں۔ اپرنا نے ممبئی بم دھماکوں کے زخمیوں کا علاج کیا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ’مجھے نہیں لگتا کہ ہم کبھی بھی اس دن کو بھلا پائیں گے۔ چالیس کے قریب مریض کو ایک ہی ایمبولنس میں لایا گیا اور ایمرجنسی وارڈ میں ڈال دیا گیا‘۔ ڈاکٹر اپرنا کا کہنا ہے کہ’بم دھماکے تو شہر کے متعدد مسائل میں سے ایک چھوٹا سا مسئلہ ہیں۔ آپ جہاں جائیں وہاں ہجوم ہی ہجوم ہے۔ آپ شاپنگ کے لیئے جائیں تو آپ کو چیز دیکھنے تک کا موقع نہیں ملتا، تھیٹر جائیں تو ٹکٹ نہیں ملتا، حتٰی کہ پارک جائیں تو بچوں کو جھولوں پر جگہ نہیں ملتی‘۔ بارندہ میں میری ملاقات چھبیس سالہ ہارون سے ہوئی۔ آئی پوڈ پکڑے ہرون کا کہنا تھا کہ وہ گیارہ سال کی عمر سے ممبئی کے ایک بڑے فلم سٹوڈیو میں بطور ساؤنڈ ریکارڈسٹ ملازم ہے۔
جہاں ہم بات کرہے تھے وہاں ہمارے اردگرد جھونپر پٹیوں کی قطاریں تھیں۔ انہی کچی آبادیوں میں ممبئی کی نصف آبادی رہتی ہے۔ یہاں گندگی تھی اور ٹوٹی پھوٹی گلیوں سے کوڑے اور پیشاب کی بدبو اٹھ رہی تھی۔بچے ننگے پاؤں پھر رہے تھے اور بکریاں باسی سبزیوں کے چھلکے چبا رہی تھیں۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں ممبئی بم دھماکوں کے دو دن بعد پولیس نے ہارون سمیت سینکڑوں نوجوان مسلمانوں کو حراست میں لیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ شدت پسند اسلامی گروہ کے حامی ہیں۔ ہارون کے مطابق’انہوں نے ہم سے گھنٹوں تفتیش کی۔ کیا ہم نے بم رکھے، کیا ہم کسی گروہ کے لیئے کام کرتے ہیں۔ مجھ تو خوف تھا کہ کہیں وہ ہمیں جیل میں بند نہ کر دیں‘۔
ہارون سے پولیس کا رویہ بھی ممبئی کی زندگی کا معمول ہے۔ بھارت اور خصوصاً ممبئی میں مذہبی فسادات کی تاریخ کافی پرانی ہے۔ ممبئی میں ہی 1992 کے مسلم کش فسادات میں دوو ہزار کے قریب مسلمان مارے گئے تھے۔ جبکہ گجرات میں سنہ 2002 میں ایسی ہی ایک اور خونریزی میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔آزدی کے انسٹھ سال بعد بھی بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کو اجتماعی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ لیکن درحقیقیت ممبئی کے شہریوں نے ان سب باتوں کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ اب وہ ٹوٹی سڑکوں، ابلتے گٹروں، لوڈشیڈنگ، رشوت ستانی، تشدد اور نا انصافی کے عادی ہو گئے ہیں۔ گزشتہ سال ہی اس شہر میں بارش سے ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے لیکن انتظامیہ پر کچھ اثر نہیں پڑا اور شہری سہولیات میں کسی قسم کی بہتری دیکھنے میں نہ آئی۔ ایک کالم نگار نے اسے’ممبئی کے انفراسٹرکچر کی دہشتگردی‘ کہا۔ اب روزانہ کی اس پریشانی میں کسے بموں کی فکر ہو؟ |
اسی بارے میں ’ پتہ نہیں میرا مستقبل کیا ہوگا‘12 August, 2006 | انڈیا 1993 ممبئی دھماکے: فیصلہ مؤخر10 August, 2006 | انڈیا بارش: بڑے پیمانے پر تباہی07 August, 2006 | انڈیا مہاراشٹر میں بارش کا قہر جاری 06 August, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||