BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 August, 2006, 09:03 GMT 14:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بارش: بڑے پیمانے پر تباہی

موسلادھار بارش
ممبئی میں مزید موسلادھار بارش کی پیشنگوئی کی گئی ہے
ہندوستانی ریاستوں مہاراشٹر اور گجرات میں گزشتہ تین دن کی لگاتار بارش سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد پینسٹھ تک پہنچ گئی ہے۔

شدید بارش کی وجہ سے سینکڑوں دیہات پانی میں ڈوب گئے ہیں اور سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ دونوں ریاستوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کے لیئے فوج بھی طلب کر لی گئی ہے اور پانچ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے سیلاب میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کا کام جاری ہے ۔

ممبئی میں تین دنوں سے لگاتار موسلا دھار بارش ہو رہی ہے اور کئی علاقوں میں گھروں میں پانی بھر چکا ہے۔ محکمۂ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل وی وی بھدرم کے مطابق ممبئی، قلابہ اور اس کے مضافات میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 333 ملی میٹر بارش ہوئی ہے۔ محکمہ نے آئندہ چوبیس گھنٹوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ مزید موسلا دھار بارش پیشنگوئی بھی کی ہے۔

ممبئی کے میونسپل کمشنر جانی جوزف نے اعتراف کیا ہے کہ ممبئی کے تمام زیریں علاقے پانی میں ڈوب چکے ہیں اسی کے ساتھ انہوں نے شہریوں کو اپنے گھروں تک محدود رہنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

دیہی علاقوں میں بارش کی وجہ سے کافی تباہی مچی ہے۔

مسٹر جوزف کا کہنا ہے کہ حالانکہ گزشتہ برس ممبئی کے جل تھل ہونے کے بعد بی ایم سی (ممبئی میونسپل کارپوریشن )نے میٹھی ندی کو چوڑا کیا لیکن اسے مکمل طور پر صاف کرنے اور نکاسی کی پائپ لائن کو چوڑا کرنے میں کم سے کم تین سال کا عرصہ درکار ہے جس کے بعد ممبئی شہریوں کو پانی جمع ہونے کی شکایت نہیں رہے گی۔

مہاراشٹر میں ہنگامی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیئے بنائے گئے سیل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ناسک، ناندیڑ، آکولہ ، کولہاپور ، رتناگیری ، ہنگولی اور تھانے کے دیہی علاقوں میں بارش کی وجہ سے کافی تباہی مچی ہے۔ سنیچر کو بلڈھانہ میں لاتور اور پونہ کی سڑک پر پھنسی ہوئی سات بسوں کے مسافروں کو فوج نے ہیلی کاپٹر کے ذریعہ محفوظ مقام پر پہنچایا جبکہ ناندیڑ سے بھی تقریباً اٹھارہ ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے۔

دوسری جانب ریاست گجرات کے شہر سورت کے میونسپل کمشنر پنکچ جوشی کے مطابق شہر میں اوکھئی ڈیم سے نو لاکھ کیوسک پانی چھوڑا گیا ہے جس کی وجہ سے شہر کے کنارے کی سترہ بستیاں پانی میں ڈوب چکی ہیں۔ گجرات میں فوج نے اب تک چھتیس ہزار لوگوں کو امدادی کیمپوں میں پہنچا دیا ہے اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کا کام ابھی بھی جاری ہے۔

سورت کے باشندے مناف یوسف شیخ کا کہنا ہے کہ اب بھی موسلا دھار بارش ہو رہی ہے اور اگر اسی طرح بارش ہوتی رہی تو ڈیم کا پانی ایک بار پھر شہر میں چھوڑا جائے گا جس کی وجہ سے یہاں 1998 سے بھی بھیانک صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ 1998 میں پورا سورت شہر سیلابی پانی میں ڈوب گیا تھا اور اس کے بعد شہر میں طاعون پھیل گیا تھا جس نے سینکڑوں افراد کی جان لے لی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد