ممبئی کے 12 تاجر زیر حراست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین حکام کا کہنا ہے کہ ایمسٹرڈم میں حراست میں لیے جانے والے بارہ افراد انڈین ہیں اور ان میں سے نو ممبئی شہر کے رہنے والے ہیں۔ حراست میں لیے جانے والے ممبئی سے تعلق رکھنے والے افراد کے رشتہ دار پریشان اور گھبرائے ہوئے ہیں۔ ایمسٹرڈم سے ممبئی روانہ ہونے والے طیارے کو بدھ کو واپس ایمسٹرڈم لے جایا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق طیارے میں موجود ایئر مارشل کو چند مسافروں کی حرکات پر شبہ ہوا تھا۔ طیارے میں سوار بارہ مسافروں کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش کی گئی۔ ممبئی کے جوگیشوری علاقے کے ایک تاجر عرفان رگاڑیا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی میمن کالونی کے سات افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے پانچ تاجر ہیں اور ان کے ساتھ دو باورچی ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا تھا یہ تاجرگزشتہ کئی سال سے اسی طرح طیارے میں سفر کرتے ہیں۔ وہ ممبئی سے خواتین کے کپڑے اور مصنوعی زیورات وغیرہ برآمد کرتے ہیں۔ ہر سال مختلف شہروں میں منعقد میلے میں شرکت کرنے کے لیئے انہیں دعوت بھی ملتی ہے اور یہاں کے زیادہ تر تاجر یہی تجارت کرتے ہیں۔ عرفان کے مطابق ہر سال کی طرح اس سال بھی ان کی میمن کالونی سے چالیس کے قریب تاجر میلے میں شرکت کے لیئے ستائیس جولائی سے گئے تھے۔ پورٹ آف اسپین کے قریب دو مختلف مقامات پر تجارتی میلے تھے۔ اس میں شرکت کے بعد کچھ نے لندن کی فلائٹ لی اور کچھ نے نارتھ ویسٹ ایئر لائنز کی فلائٹ بک کی جو ایمسٹرڈم ہوتے ہوئے ممبئی آتی ہے۔ حراست میں لیے جانے والے تاجروں میں عبدالقادر چپل والا ، محمد یوسف حاجی غفار میمن، ایوب عبدالقادر کولسہ والا ، شکیل چھوٹانی ، محمد اقبال باٹلی والا، نور محمد حبیب باٹلی والا، عمران محمد یوسف، محمد سلمان اور غلام مصطفے کے ساتھ بائیکلہ علاقے کے ایوب اور احسان فاروقی شامل ہیں۔
حراست میں لیے گئے تاجر ایوب عبدلاقادر کولسہ والا کے بھائی یعقوب نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بھائی کو اس میلے میں شرکت کے لیئے ٹرینیڈیڈ ٹوباگو کے ہائی کمیشن کی جانب سے میلے میں شرکت کی دعوت ملی تھی۔ یعقوب کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی برسوں سے اس طرح میلے میں شرکت کے لیئے جاتے ہیں لیکن ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا ۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو کم سے کم انہیں مطلع کرنا چاہئے تھا لیکن حکومت کی جانب سے کسی قسم کی کوئی مدد نہیں ملی نہ ہی کسی نے اطلاع دی ۔ مختلف ٹی وی چینلز پر خبروں کی وجہ سے انہیں پتہ چلا کہ انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔ عرفان کا کہنا تھا کہ ان تاجروں میں زیادہ تر کم عمر ہیں لیکن چند نے داڑھی رکھی ہے۔ یعقوب کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ ایک ماہ گھر سے باہر رہنے کے بعد وطن واپسی کی خوشی میں سب ہنسی مذاق کر رہے ہوں اور ایک دوسرے کو موبائیل پر پیغام دے رہے تھے اس لیئے ان پر شبہ کیا گیا ہو۔ یعقوب کا کہنا تھا کہ انہیں ٹی وی کے ذریعے ہی پتہ چلا کہ حراست میں لیئے گئے ان کے بھائی یا کسی اور کے خلاف کوئی کیس نہیں بنا ہے اور اب انہیں امید ہے کہ وہ جلد ہی گھر واپس آسکیں گے۔ بائیکلہ علاقے سے ایوب اور ان کے بھائی احسان فاروقی کے گھر والے بہت خوفزدہ ہیں اور انہوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا ان کا کہنا تھا کہ’یہ ہم مسلمانوں پر مصیبت کی گھڑی ہے اور اللہ انہیں اس سے انہیں باہر نکالے‘۔ | اسی بارے میں ممبئی: دو تاجروں کے خلاف وارنٹ15 January, 2005 | انڈیا بھارتی تاجر کا عالمی ریکارڈ26 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||