BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 July, 2006, 07:59 GMT 12:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہاراشٹر: شیوسینا کا پرتشدد احتجاج

مینا تائی کا مجسمہ
شیوسینک بال ٹھاکرے کی بیوی مینا تائی کو ماں کا درجہ دیتے ہیں
شیو سینا کے کارکنوں کی جانب سے بال ٹھاکرے کی بیوی مینا تائی ٹھاکرے کے مجسمہ کو توڑے جانے پر کیا جانے والا احتجاج پرتشدد روپ اختیار کرگیا ہے۔

پولیس کے مطابق پریل، دادر، اندھیری، جوگیشوری ، کاندی ولی، تھانے، ناگپور، ناسک اور آکولہ میں مظاہرین نے توڑپھوڑ کی ہے جبکہ کئی مقامات پر ریل گاڑیوں کو روکنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔

ممبئی میں دادر کے علاوہ ناسک میں ایک سرکاری بس کے مسافروں کو بس سے اتار کر اس میں آگ لگا دی گئی۔ کئی مقامات پر بسوں پر پتھراؤ بھی کیا گیا ہے۔ممبئی کے اندھیری علاقہ میں اقلیتی فرقے کی دکانیں بند کرانے کے معاملہ میں پتھراؤ ہوا تاہم پولیس نے ہجوم کو منتشر کر دیا۔

دادر کا شیواجی پارک ایک تاریخی گراؤنڈ ہے اور یہاں شیواجی مہاراج کے مجسمہ کے علاوہ شیوسینا سربراہ بال ٹھاکرے کی بیوی مینا تائی کا بھی مجسمہ ہے۔ شیوسینا کے رضاکار مینا تائی کو ماں کا درجہ دیتے ہیں۔

شیوسینا کے کارکن ایک سیاسی جماعت کے رہنما ابوعاصم اعظمی کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ ابو عاصم اعظمی کا پتلا بھی جلایا گیا ہے اور ان کی ارتھی نکالی گئی۔ ابو عاصم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مینا تائی کے مجسمہ کی بے حرمتی پر افسوس ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بال ٹھاکرے کی عزت نہیں کرتے لیکن مینا تائی کی عزت کرتے ہیں کیونکہ وہ ایک عورت ہیں اور اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔

شیوسینا کے رضاکاروں نے احتجاجاً توڑ پھوڑ شروع کر دی

ابو عاصم کا الزام ہے کہ شیوسینا یہ سب سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیئے کر رہی ہے کیونکہ اب میونسپل الیکشن قریب ہیں اور شیوسینا اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے۔

شیوسینا کے کارگزار صدر اور مینا تائی کے بیٹے ادھو ٹھاکرے نے شیوسینکوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ’یہ غصہ جائز ہے اور ریاستی حکومت ناکام ہو چکی ہے‘۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی لیڈر گوپی ناتھ منڈے نے بھی شیوسینا کی حمایت میں حکومت کو چوبیس گھنٹوں کا الٹی میٹم دے دیا ہے کہ اگر ملزمان پکڑے نہیں جاتے تو وہ قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل کی کارروائی چلنے نہیں دیں گے۔

شیوسینا کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا کے سابق سپیکر منوہر جوشی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے اور وہ اسے بالکل برداشت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ’مینا تائی شیوسینکوں کے لیئے ماں کا درجہ رکھتی ہیں اور ان کے مجسمے کی بے حرمتی کر کے شرپسندوں نے شیوسینکوں کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی ہے‘۔

 مینا تائی شیوسینکوں کے لیئے ماں کا درجہ رکھتی ہیں اور ان کے مجسمے کی بے حرمتی کر کے شرپسندوں نے شیوسینکوں کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی ہے

انہوں نے اس کے لیئے حکومت اور اس کی مشینری کی ناکامی کو ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ’ اگر حکومت جلد از جلد ملزمان کو پکڑنے میں کامیاب نہیں ہوئی تو یہ احتجاج مزید پرتشدد ہو سکتا ہے‘۔

جوائنٹ پولیس کمشنر ممبئی اروپ پٹنائیک نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ’انہیں شر پسندی کی پہلے سے اطلاع تھی لیکن یہ پتہ نہیں تھا کہ اس طرح مینا تائی ٹھاکرے کا مجسمہ توڑ کر شہر کا امن و امان تباہ کرنے کی کوشش کی جائے گی‘۔

پٹنائیک نے اسے ایک سیاسی پارٹی کی حرکت بتایا اور ان کا کہنا تھا کہ ابھی وہ مزید کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن بہت جلد ملزمان پولیس کی گرفت میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کا امن و امان برقرار رکھنا اس وقت ان کی اولین کوشش ہے۔

اسی بارے میں
شیوسینا پارٹی کا خاتمہ؟
27 November, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد