شیوسینا پارٹی کا خاتمہ؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ریاست مہاراشٹر کی علاقائی پارٹی شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کے بھتیجے راج ٹھاکرے کی ناراضگی اور پارٹی عہدوں سے استعفے نے پارٹی کی کمر توڑ دی ہے۔ سیاسی مبصرین راج ٹھاکرے کے اس اقدام کو شیوسینا کے خاتمہ کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ حالیہ ضمنی انتخابات میں شیوسینا کی زبردست شکست کے بعد عرصہ سے خاموش راج ٹھاکرے نے زبان کھول دی ۔ناسک سے واپسی کے بعد انہوں نےاپنے گھر پر ایک پریس کانفرنس میں پارٹی کی مجلس عاملہ اور ودیارتھی سینا کی صدارت کے عہدے سے سبکدوش ہونے کا اعلان کر دیا۔ان کے گھر کے باہر ان کے حامیوں اور پریس کی کافی بھیڑ جمع تھی ۔ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ میں بالا صاحب ٹھاکرے کو آج بھی اپنا لیڈر تسلیم کرتا ہوں لیکن ان کے ارد گرد چمچوں اور دلالوں کی بھیڑ رہتی ہے جس کی وجہ سے پارٹی کمزور ہوتی جارہی ہے۔‘ راج ٹھاکرے نے یہ شکوہ بھی کیا کہ ایک عرصہ سے پارٹی کے کسی بھی فیصلہ میں انہیں شریک نہیں کیا جا رہا تھا۔ ’ میں کب تک یہ ذلت برداشت کرتا، اس لیے میں نے پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفے دے دیا ہے۔‘ راج کے اس اعلان کے ساتھ ہی ان کے حامیوں نے وہاں کھڑی سنجے راؤت اور منوہر جوشی کی کار پر دھاوا بول دیا۔اس دوران پریس فوٹو گرافر کے ساتھ بھی مار پیٹ کی گئی۔ اس خبر کے بعد راج نے اپنے حامیوں سے پر امن رہنے کی درخواست کی ۔ چھگن بھجبل کو انہیں کے حلقہ مجگاؤں سے شکست دینے والے ممبر اسمبلی بالا ناند گاؤنکر نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت اپنے لیڈر راج ٹھاکرے کے ساتھ ہیں اور اس وقت کچھ کہنا نہیں چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہوا ہے وہ ٹھیک ہے اور آگے جو ہو گا وہ اچھا ہو گا ۔ پارٹی جب اپنے عروج پر تھی تب راج ٹھاکرے کا بول بالا تھا لیکن رفتہ رفتہ ادھو ٹھاکرے نے اپنے والد بالا ٹھاکرے کی جگہ لینے کی کوشش کی اور راج کو نظر انداز کیا جانے لگا ۔دو ہزار دو میں بال ٹھاکرے نے اپنے بیٹے ادھو کو پارٹی کا کارگزار صدر بنا دیا اور یہیں سے پارٹی کے اندر کشمکش شروع ہو گئی ۔ شیوسینا میں راج ٹھاکرے کے حامیوں کی تعداد زیادہ تھی ۔راج گرم جوش لیڈر کے طور پر مانے جاتے تھے اور نوجوانوں کی پارٹی ودیاتھی سینا کے صدر بھی ۔ راج کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی پارٹی میں شامل نہیں ہوں گے ۔پارٹی چھوڑ کر آئے سنجے نروپم نے راج کو کانگریس میں آنے کی دعوت دی لیکن راج کا کہنا ہے کہ کانگریس میں خود سنجے کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ شیوسینا پارٹی انیس سو ساٹھ کی دہائی میں مراٹھی عوام کی فلاح کے لئے بالا صاحب ٹھاکرے نے قائم کی تھی ۔ پارٹی کے لیڈر اپنی بات منوانے کے لئے ہمیشہ تشدد کا سہارا لیتے رہے اور اسی لئے یہی اس کا کلچر بن گیا ۔اسی لئے اس پارٹی کے زیادہ تر قد آور رہنماؤں کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں۔ مہاراشٹر کے ساحلی علاقہ کوکن میں مالون سیٹ پر رانے کی تاریخی کامیابی نے سینا کو ہلا کر رکھ دیا اور آج کا یہ مظاہرہ اسی بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ پارٹی جو کبھی دوسروں کے خلاف سڑکوں پر اتر کر لوگوں کو تشدد کا نشانہ بناتی تھی ،آج اپنی بقا اور اندرونی جھگڑوں کو سڑکوں پر طے کر رہی ہے ۔ اس پورے واقعہ کے دوران پارٹی سربراہ بال ٹھاکرے بالکل خاموش ہیں اور انہوں نے پریس کو کوئی بیان نہیں دیا ہے اور نہ ہی ان کا کوئی لیڈر پریس سے بات کر رہا ہے ۔ | اسی بارے میں شیوسینا خاتمے کے قریب22 November, 2005 | انڈیا بی جے پی و شیو سینا پر جرمانہ 16 September, 2005 | انڈیا مہاراشٹر میں شیوسینا کو دھچکا26 July, 2005 | انڈیا شیو سینا میں سیاسی جوڑ توڑ03 July, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||