شیوسینا خاتمے کے قریب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کے ضمنی اسمبلی انتخابات میں شیو سینا نے اپنی دو انتہائی اہم سیٹوں کو گنوا دیا ہے ۔ اسمبلی اور ممبر پارلیمنٹ دونوں حلقوں سے کانگریس کے امیدوار بہت زیادہ ووٹوں سے کامیاب ہوئے ہیں۔ ممبئی میں شمال مغربی حلقہ سے ممبرپارلیمنٹ سنیل دت کی موت کے بعد ان کی بیٹی پریہ دت الیکشن لڑ رہی تھیں جنہیں تقریبا ایک لاکھ اکہتر ہزار ووٹوں سے شاندار کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ کانگریس کو اس حلقے میں اتنی بڑی تعداد میں ووٹ اس وقت ملے تھے جب اندرا گاندھی کے قتل کے بعد راجیو گاندھی سیاست میں اترے تھے اور ملک میں کانگریس کے تیئں ہمدردی کی لہر اٹھی تھی ۔ اس وقت سنیل دت کانگریس کی طرف سے امیدوار تھے۔ پریہ دت نے اپنی کامیابی کو اپنے والد سنیل دت سے منسوب کیا ہے ۔ مہاراشٹر کے ساحلی علاقہ مالون اسمبلی حلقہ سے شیو سینا چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہونے والے نارائن رانے نے انتخابات لڑ رہے تھے ۔ نارائن رانے شیو سینا کے بہت طاقتور لیڈر تھے ۔جب مہاراشٹر میں شیو سینا بی جے پی کی حکومت تھی اس وقت رانے وزیر اعلی بھی رہ چکے تھے۔ رانے نے ہی کوکن میں شیوسینا کو مضبوط کیا تھا۔ شیو سینا نے جب رانے کو پارٹی سے نکال دیا تو انہوں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور وہ سیٹ چونکہ خالی ہو چکی تھی اس لئے وہاں انیس نومبر کو ضمنی انتخاب ہوئے۔ ان کے مخالف امیدوار پرشو رام اپارکر کی ضمانت تک ضبط ہو گئی۔ اس سیٹ کے لئے شیوسینا کے تمام لیڈران نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تھا لیکن ان کے امیدوار کی اس شرمناک شکست سے اب سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ شیو سینا خاتمہ کے قریب ہے۔ اپنی کامیابی پر رانے نے کہا کہ وہ شیوسینا امیدوار کی ضمانت تک ضبط کرانے کی کوشش میں تھا اور یہی ہوا ۔انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ شیوسینا کو ان کی طاقت کا اندازہ نہیں تھا انہوں نے ہی کوکن میں شیوسینا کو پھیلایا۔ انہوں نے وہاں علاقہ اور لوگوں کی ترقی کا کام کیا ہے اس لئے وہ جس پارٹی کے ساتھ رہیں گے ،لوگ انہیں ہی ووٹ دیں گے۔ رانے نے شیوسینا سربراہ کے بیٹے ادھو ٹھاکرے کو چیلنج کیا کہ یہ ناکامی ان کی بھی ہے اس لئے وہ اپنے عہدے سے استعفے دے دیں۔ وہ شیوسینا جو مہاراشٹر کی سب سے مضبوط علاقائی پارٹی کا درجہ رکھتی تھی ، ان ضمنی انتخابات میں اس کی شکست سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آج خاتمہ کے قریب ہے۔ نامور صحافی نکھل واگلے ، کا کہنا ہے کہ یہ شکست پوری پارٹی کی ہے کیونکہ مالون اسمبلی حلقہ میں شیوسینا کے بڑے بڑے لیڈران اپنے امیدوار کی انتخابی مہم میں شریک ہوئے تھے اس کے باوجود امیدوار کی ضمانت کا ضبط ہونا شیوسینا پارٹی اور اس کے لیڈران کی شکست ہے۔ نکھل واگلے نے شیوسینا کے خاتمہ کی کئی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ شیوسینا نے ریاست میں ہمیشہ مراٹھیوں کو اہمیت دی لیکن اسی کے ساتھ شمالی ریاستوں سے کاروبار کرنے آئے لوگوں کے خلاف مہم شروع کی۔ چھگن بھجبل کے پارٹی چھوڑ کر جانے کے بعد پارٹی کم کمزور ہوئی تھی لیکن رانے کا پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ غلط تھا کیونکہ رانے ایک مضبوط لیڈر ہیں اور شیوسینا کو مضبوط کرنے میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔ واگلے کے مطابق بال ٹھاکرے کا اپنے بیٹے کو بڑھاوا دینا ایک غلط قدم تھا اور یہی فیصلہ پارٹی کو ڈبونے کے لئے کافی ہے۔ | اسی بارے میں ضمنی انتخابات میں سنیل دت کی بیٹی 19 November, 2005 | انڈیا بولی وڈ کا شریف سیاستدان25 May, 2005 | صفحۂ اول پندرہ برس بعد لالو راج کو خطرہ 22 November, 2005 | انڈیا جھارکھنڈ انتخابی معرکہ زوروں پر21 February, 2005 | انڈیا الیکشن: بہار، جھارکھنڈ اور ہریانہ17 December, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||