شیو سینا میں سیاسی جوڑ توڑ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کی سب سے بڑی علاقائی پارٹی شیو سینا اس وقت زبردست سیاسی بحران سے گزر رہی ہے۔ یکے بعد دیگرے اس کے بڑے لیڈران پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ شیوسینا کے سربراہ بالا صاحب ٹھاکرے نے مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ اور اس وقت اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نارائن رانے کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔ ان کے اس اقدام سے پارٹی بظاہر دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوتی نظر آرہی ہے ۔ شیو سینا کے سربراہ نے رنگ شاردا میں صحافیوں کی کانفرنس طلب کی اور رانے کو پارٹی سے نکال دینے کا اعلان کیا۔ اس کانفرنس میں ٹھاکرے نے کہا کہ کسی بھی لیڈر کے جانے سے پارٹی کمزور نہیں ہو سکتی اور جب بھی کوئی لیڈر پارٹی چھوڑ کرگیا پارٹی اور زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔ ان کا اشارہ چھگن بھجبل کی طرف تھا۔ بال ٹھاکرے نے پارٹی میں اختلاف کی باتوں کو بے بنیاد بتایا اور کہا کہ جب سے ان کے بیٹے نے پارٹی کی کمان سنبھالی ہے ان کی پارٹی جدید طرز پر کام کرنے لگی ہے۔ انہوں نے رانے کو چیلنج کیا کہ وہ ایم ایل اے کے عہدے سے بھی استعفے دیں کیونکہ وہ پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ہیں۔ شیوسینا سن ساٹھ کی دہائی میں بنی تھی۔ پارٹی کے سربراہ بال ٹھاکرے کو سخت گیر لیڈر مانا جاتا رہا ہے اور ان کا حکم ہی پارٹی میں حرف آخر سمجھا جاتا ہے۔ پارٹی میں اختلافات کی شروعات اس وقت سے ہوئی جب شیو سینا چیف نے اپنے بھتیجے راج ٹھاکرے کے سامنے اپنے بیٹے ادھو ٹھاکرے کو اہمیت دینی شروع کی ۔ انیس سو اکیانوے میں چھگن بھجبل نے اپنے ساتھ اس وقت کے اٹھارہ ایم ایل اے کے ساتھ پارٹی چھوڑ دی اور کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ انہیں اس وقت کے وزیر اعلیٰ شرد پوار نے ہاؤسنگ منسٹر بنا دیا تھا۔ حال ہی میں سنجے نروپم نے بھی اختلافات کی وجہ سے پارٹی اور ممبر پارلیمنٹ کے عہدے سے استعفے دیا اور کانگریس میں شامل ہو گئے جس کی آنجہانی سنیل دت نے مخالفت کی تھی ۔ نارائن رانے مہاراشٹر کے کوکن علاقہ سندھودرگ کے کانکولی علاقہ سے ایم ایل اے ہیں اور ان کا اس علاقہ میں بہت اثر رسوخ ہے۔ پارٹی کے ایم ایل اے بالا ناندگاؤنکر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اور رانے دونوں کا نقصان ہوا ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ سنجے نروپم کا کہنا ہے کہ بالا صاحب ٹھاکرے کے بعد جو نئی پیڑھی ہے وہ خود کو بڑا لیڈر مانتی ہے۔ پارٹی میں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ اناء کا ہے۔ مہاراشٹر اسمبلی میں اس وقت شیو سینا کے 68 ایم ایل اے ہیں اور قیاس کیا جا رہا ہے کہ سبھاش دیسائی کو نیا اپوزیشن لیڈر بنایا جائےگا۔ شیوسینا میں اس سیاسی اتھل پتھل کا نتیجہ دیر رات گئے سامنے آئے گا جب یہ پتہ چلے گا کہ رانے کے ساتھ کتنے اور ایم ایل اے اور ورکرز پارٹی چھوڑ رہے ہیں اور رانے کس سیاسی پارٹی میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ پارٹی میں اس وقت دو گروپ کام کر رہے ہیں ۔ایک گروپ بال ٹھاکرے کے بیٹے ادھو ٹھاکرے کے ساتھ ہے اور دوسرا ان کے بھتیجے راج ٹھاکرے کے ساتھ۔ رانے راج ٹھاکرے گروپ کے ہیں اور اس وقت پارٹی میں ادھو ٹھاکرے کی پوزیشن سب سے مضبوط ہے۔ ممبئی میں ماحول سخت کشیدہ ہو چکا ہے اور پولیس کو تشویش ہے کہ کہیں دونوں گروپ میں بڑھتی کشیدگی کوئی نا خوشگوار حادثے میں نہ تبدیل ہو جائے اس لیے سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||