پاکستانی ٹیم آئے توسہی: شِو سینا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی میں شِوسینا کے چیف، بھگوان گوئل نے کہا ہے کہ ان کی جماعت پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ہندوستان دورے کی شدید مخالف ہے اور آئندہ سیریز کو روکنے کے لیے اپنی ساری طاقت صرف کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے سربراہ بالا صاحب ٹھاکرے نے موہالی کی پچ کھودنے پر پارٹی کے کارکنوں کی تعریف کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کہتی ہے کہ موہالی پچ کو نقصان نہیں پہنچا ہے لیکن حقیقت اس کے برخلاف ہے۔ بھگوان گوئل نے کہا ہے کہ ’ہمارے شِوسینکوں نے پچ کو کھودا ہے لیکن بار بار چندی گڑہ انتظامیہ کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ معمولی نقصان ہوا ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ جھوٹ بول رہی ہے کیونکہ جب ان کے شِوسینک وہاں گئے تھے تو وہاں پولیس نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے کارکنوں نے بہت اچھی طرح اپنے کام کو انجام دیا۔ بھگوان گوئل نے کہا ’میں چندی گڑھ انتظامیہ اور کرکٹ ایسوسی ایشن سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر کچھ ہوا نہیں ہے تو پھر وہ میڈیا کے ذریعے لوگوں کو دکھاتے کیوں نہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ جب سے پچ کھدی ہے کسی کو اندر جانے نہیں دیا جا رہا۔ بھگوان گوئل نے کہا کہ شِوسینا ابھی سنبھل سنبھل کر اقدام کر رہی ہے لیکن اگر حکومت نے ان کے مطالبے پر توجہ نہیں دی تو ان کے کارکن کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کی ٹیم آئے تو سہی پھر دیکھیں گے، ابھی تو میٹنگیں ہو رہی ہیں، صلاح مشورے ہو رہے ہیں۔ ابھی تو بہت پچیں باقی ہیں دیکھتے ہیں کہاں کہاں کھیلتے اور کیسے کیسے کھیلتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا یہ تو ہمارے شِوسینکوں کے ہاتھ میں ہے۔ کان پور کی پچ بھی کھد سکتی ہے اور دلی کی پچ تو ویسے ہی کھدی ہوئی ہے اور ابھی بننی ہے جب بن جائے گی تو اس کا بھی نمبر آئے گا۔ شِوسینا اس بات پر بھی ناراض ہے کہ آخر پاکستانی ٹیم احمد آباد میں کیوں نہیں کھیل سکتی۔ اس سوال کے جواب میں کہ کرکٹ میچ تو دوستانہ ماحول کو بڑھانے کے لیے ہوتے ہیں اس میں سیاست کیسی؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان گجرات میں نہ کھیل کر ہندوستان کی شبیہہ عالمی سطح پر خراب کرنا چاہتا ہے۔ شِوسینا پاکستان کرکٹ ٹیم کے دورۂ بھارت کی اکثر مخالفت کرتی رہی ہے اور اس سے پہلے دلی کی پچ بھی کھود چکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||