وینیٹی فیئر، میرا نائر کی نئی فلم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین نژاد فلم ڈائرکٹر میرا نائر کا کہنا ہے کہ ان کے لیے ولیم میک پیس تھیکرے کے ناول ’وینیٹی فیئر‘ پر بننے والی فلم کی ہدایات دینے کا موقعہ ملنا انتہائی پرمسرت بات تھی کیونکہ یہ کتاب زندگی بھر ان کی پسندیدہ کتابوں میں شامل رہی ہے۔ ’وینیٹی فیئر‘ انگریزی کے کلاسیکی ادب میں شمار کی جاتی ہے۔ یہ انیسویں صدی کی ایک کردار بیکی شارپ کی کہانی ہے جسے سماجی رتبے کی سیڑھیاں چڑھنے کا فن آتا ہے۔ فلم میں یہ کردار رِیس ودرسپون ادا کررہی ہیں۔ میرا نائر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس فلم پر کام کرنے کے موقعے سے آگے بڑھ کر فائدہ اٹھایا۔ میرا نائر نے یہ فلم بالی وڈ کے انداز میں بنائی ہے اور اس میں دوگانے بھی شامل کیے ہیں جس نے اسے متنازعہ بنایا ہے۔ امریکہ میں ’وینیٹی فیئر‘ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا جہاں یہ فلم باکس آفس پر آٹھویں نمبر پر رہی اور اس میں بالی وڈ ٹائپ حصوں کو سخت ناپسند کیا گیا۔
انہوں نے بی بی سی کے ایک پروگرام میں کہا کہ ’مجھے اس پر ایک خوشگوار حیرت ہوئی جب ’مون سون ویڈنگ‘ کی تقسیم کار کمپنی ’فوکس فیچر‘ نے اپنی اگلی بہترین فلم کی مجھے پیش کش کی جو اس ناول پر مبنی تھی۔ انہیں نہیں معلوم تھا کہ یہ میرا سولہ برس کی عمر سے پسندیدہ ناول ہے جب میں انڈیا میں ایک آئرش کیتھولک سکول میں پڑھتی تھی۔‘ انیس سو اٹھاسی میں اپنی پہلی فلم ’سلام بمبے‘ کے بعد سے، جسے بہترین غیرملکی فلم کے آسکر سے نوازا گیا تھا، میرا نائر مغربی دنیا میں انڈیا کی سب سے زیادہ محترم اور مشہور ڈائریکٹر مانی جاتی ہیں۔ اس دوران انہوں نے ہالی وڈ کے مشہور اداکار ڈینزل واشنگٹن کے ساتھ ’مسی سپی مسالہ‘ اور اپنی ہالی وڈ کی پہلی فلم ’دی پیریز فیملی‘ بھی بنائیں۔ تاہم ان کی سب سے کامیاب فلم ’مون سون ویڈنگ‘ سمجھی جاتی ہے جسے دو ہزار ایک میں وینس میں گولڈن لائن ایوارڈ دیا گیا تھا۔
فلم کا اختتام نیا ہے جس میں مرکزی کردار بیکی شارپ ایک نئی زندگی کے آغاز کے لیے انڈیا روانہ ہوجاتی ہے۔ تاہم میرا نائر کا کہنا ہے کہ ان کی فلم کی دنیا وہی ہے جیسے تھیکرے نے خود دیکھا تھا کیونکہ وہ انڈیا میں پیدا ہوئے تھے اور نوجوانی میں انگلینڈ آ گئے تھے۔ ان کے بقول ’سولہ برس کی عمر میں بیکی شارپ کا کردار میرے لیے ناقابلِ فراموش تھا کیونکہ میں اس میں خود کو دیکھتی تھی، ان تمام عورتوں کی طرح جو ’لیڈی‘ نہیں بننا چاہتی تھیں۔‘ ’جوں جوں میری عمر بڑھی مجھے تھیکرے کی مشاق نظر کا اندازہ ہوا اور لگا کہ وہ دنیا کو اس لیے بھی صاف دیکھ سکتے ہیں کہ وہ انڈیا سے انگلینڈ آئے تھے اور جہاں ’اندر‘ کے لوگوں میں شمار ہوتے تھے اسی طرح ’باہر‘ کے بھی تھے۔ یہ ایک ایسا زاویہ تھا جو میرا پسندیدہ تھا۔‘ انہوں نے اس فلم کے مرکزی کردار کے لیے ایک امریکی اداکارہ ودرسپون کے انتخاب کا بھی دفاع کیا جبکہ باقی تمام اداکار برطانوی یا آئرش تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اداکاروں کے انتخاب میں اپنی جبلت پر انحصار کرتی ہوں۔
ریس ودر سپون کو یہ کردار اس لیے ملا کہ وہ اس کے لیے فٹ تھیں تاہم شوٹنگ کے دوران ہی وہ امید سے ہوگئیں۔ تاہم میرا نائر کا کہنا ہے کہ اگرچہ انہیں یہ بات چھپانے کے لیے کچھ فلمی کرتب دکھانے پڑے لیکن اس سے دراصل کردار کو مدد ملی۔ انہوں نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ’میں جب پہلی مرتبہ اس کے شوہر (اداکار ریان فلپ) کو ملی تو میں نے اسے کہا کہ کچھ کرو، مجھے اس لڑکی پر کچھ گوشت چاہیے۔ فلم کی کہانی کے بڑھنے کے دوران میں اسے ایک مکمل عورت دیکھنا چاہتی تھی۔‘ ’امید سے ہونے پر عورتوں سے ایک روشنی پھوٹتی ہے جو مجھے بہت پسند ہے‘ میرا نائر کا کہنا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||