ضرورت رشتہ اور ضرورت ایکٹنگ بھی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’بینڈ اِٹ لائک بیکھم‘ کے بین الاقوامی سطح پر ہٹ ہونے کے بعد اب ہدایت کار گرندر چڈھا کی نئی فلم ’برائڈ اینڈ پریجیوڈس‘ کی برطانیہ میں نمائش شروع ہو گئی ہے۔ ’برائڈ اور پریجیوڈس‘ کی کہانی انیسویں صدی کی انگریزی ناولسٹ جین آسٹن کی مشہور کتاب ’پرائڈ اینڈ پریجیوڈس‘ پر مبنی ہے۔ یہ فلم بالی وُڈ سپر سٹار ایشوریا رائے کی پہلی انگریزی فلم بھی ہے اور اس کی لندن میں زبردست پبسلسٹی ہوئی ہے۔ جین آسٹن کی کتاب میں پانچ بیٹیوں والی ایک ماں ان کی شادیوں کے لیے فکرمند ہے لہذا جب ان کے شہر میں دو امیر بیچلر آتے ہیں تو ان کی نظریں اور امیدیں ان دونوں پر ہوتی ہیں۔ اس خاندان کی دوسری بیٹی (ایلیزابیتھ) کی ان دونوں میں سے ایک شخص (ڈارسی) سے ناراضگی ہو جاتی ہے کیونکہ ان کو احساس ہوتا ہے یہ انتہائی مغرور شخص ہے اور وہ ان کے خاندان کو گھٹیا سمجھتا ہے۔ یہ ان دونوں کی کہانی ہے کیونکہ ناراضگی محبت میں بدل جاتی ہے اور بہت ساری غلط فہمیوں کے بعد کہانی اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔
گرندر چڈھا یہ کہانی دور حاضر کے امرتسر لے گئی ہیں۔ مغرور ہیرو ڈارسی کو انہوں نے اسی نام کا امریکی بنا دیا ہے اور ان کا شہر میں آنے کا مقصد اپنے انڈین نژاد برطانوی دوست کے ساتھ ایک شادی میں شریک ہونا بتایا گیا ہے۔ فلم انگریزی میں ہے لیکن اس کا پورا سٹائل بالی وڈ فلم کا ہے۔ ہر تھوڑی دیر بعد ناچ گانا، پیار بھرے گیت وغیرہ۔اور یوں ہی آپ کو یہ محسوس ہوتا رہتا ہے کہ آپ نے یہ کسی اور فلم میں بھی دیکھا ہے۔ فلم میں کچھ ہندی فلم ’ کوئی ہو یا نہ ہو‘ کی جھلکیاں تو کچھ جان ٹراوولٹا کی میوزیکل ’گریس‘ کی۔ اس فلم کی سپر سٹار ایشوریا رائے ہیں لیکن پورے کاسٹ مںی ان ہی کی اداکاری سب سے کمزور ہے۔ اس کے علاوہ وہ ایک متوسط خاندان کی دوسری بیٹی کے بجائے فلم میں ایک ماڈل معلوم ہوتی ہی۔بنیادی کہانی میں بڑی بہن سب سے خوش شکل اور خوش طبیعت ہے البتہ دوسری بہن سب سے زیادہ منفرد شخصیت کی مالک۔ تاہم اس فلم میں ایشوریا کے علاوہ ساری بہنیں انتہائی معمولی شکل کی ہیں، اور ایشوریا کے علاوہ سب بہت معمولی کپڑے پہنتی ہیں۔ کم خوش شکل بہن کے کردار میں ایشوریا حسینہ عالم لگ رہی ہیں جو کہ کہانی کے کردار کی مناسبتسے کچھ غلط لگتا ہے۔
ایشوریا کی ایکٹنگ بھی کچھ کمزور ہے لیکن خیر اس سے ان کی ڈارسی (مارٹن ہینڈرسن ) کے ساتھ پیار کی کہانی میں زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ یہ اس لیے بہت مزے دار ہے کہ یہ ایک بالی وُڈ فلم کی طرح ہے لیکن اس میں غم اور ٹریجیڈی نہیں ڈالی گئی ہے تو ہم رونے دھونے سے بچ جاتے ہیں۔ ایشوریا کے علاوہ فلم کے سارے کرداروں کی ایکٹنگ اچھی ہے خصوصاً انوپم کھیر اور نجمہ ببر کی جو لڑکیوں کے والدین بنے ہیں۔
فلم کے گانے بھی اچھے ہیں خاص طور پر ’نو لائف ودآؤٹ وائف‘ (بیوی کے بنا کیا جیننا) جو گرندر چڈھا نے اپنے مرحوم والد کے پسندیدہ کہاوت سے بنایا ہے۔ اس فلم پر انڈیا کے فلمی ناقدین نے کافی منفی تبصرہ کیا ہے لیکن اس کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ انسان کو ہنساتی بھی ہے اور خوش بھی کرتی ہے۔ کامیڈی اچھی ہے اور رومانس زبردست۔ اور ایشوریا کی ایکٹنگ کمزور ہے تو کیا؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||