مہاراشٹر میں شیوسینا کو دھچکا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شیوسینا کے سینئر لیڈر اورمہاراشٹر کے سابق وزیراعلٰی نارائن رانے نے کانگریس پارٹی میں شامل ہونے کااعلان کیا ہے۔ انہیں بال ٹھاکرے کا قریبی ساتھی تصور کیا جاتا تھا لیکن گزشتہ دنوں دونوں کے تعقات خراب ہونے کے بعد انہیں پارٹی سے خارج کردیا گیا تھا۔ شیو سینا سے باہر ہونے کے بعد کانگریس اور این سی پی ؛ نیشنلسٹ کانگریس؛ رانے کو اپنے ساتھ ملانا چاہتے تھے۔ لیکن مسٹر رانے نےکانگریس کی صدر سونیاگاندھی سے ملاقات کے بعد اشارہ کر دیا تھا کہ وہ کانگریس کے دامن میں پناہ لیں گے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ بدلے میں کانگریس انہیں کیا دےگی لیکن خبریں ہیں کہ انہیں مرکزی کابینہ میں جگہ مل سکتی ہے۔ مہاراشٹر میں مسٹر رانے کا تعلق کون کن علاقے سے ہے۔ یہ انکا گڑھ مانا جاتا ہے اور کانگریس انہیں اس علاقے میں پارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرے گی۔گزشتہ روز انہوں نے ممبئی میں دو ریلیاں کی تھیں۔ اس دوران شیوسینا اور رانے کے حامیوں میں جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔ نارائن رانے چالیس برس سے شیوسینا میں تھے۔ وہ ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تھے لیکن بال ٹھاکرے کے بیٹے اور پارٹی صدر اودھو ٹھاکرے کے رویے سے وہ خوش نہیں تھے۔ انہوں نے کئی بار جونیئر ٹھاکرے پر نکتہ چینی بھی کی تھی۔ سیکولرازم کا دم بھرنے والی کانگریس میں سخت گیر ہندورہنماؤں کی شمولیت پر پارٹی کے بعض حلقوں میں دبے الفاظ میں نکتہ چینی بھی ہوئی ہے۔ لیکن کانگریس مہاراشٹر میں اقتدار میں ہونے کے باوجرد بھی کئی علاقوں میں بہت کمزور ہے اور وہ ہر قیمت پر خود کو مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی سیاست میں نظریہ محض موقع پرستی ہے اور سیاسی جماعتیں اسے اپنے مفاد کے لیے ضرورت کے مطابق استعمال کرتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||