راج ٹھاکرے نے نئی پارٹی بنا لی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کی سیاسی پارٹی شیوسینا سے علیحدہ ہونے کے بعد جمعرات کو شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کے بھتیجے راج ٹھاکرے نے اپنی نئی پارٹی ’مہاراشٹر نو نرمان سینا‘ ( نئے مہاراشٹر کی تعمیر کرنے والی فوج ) کی بنیاد ڈالی۔ یشونت راؤ چوہان آڈیٹوریم میں طلب کردہ پریس کانفرنس میں انہوں اپنی پارٹی کے جھنڈے کی بھی نقاب کشائی کی۔ انڈیا کے قومی جھنڈے کی طرز پر بنائے گئے اس جھنڈے میں بھی تین رنگ ہیں۔گہرا نیلا رنگ، پھر بھگوا رنگ اور بعد میں سبز رنگ۔ انیس مارچ کو راج ٹھاکرے شیواجی پارک میں ایک بڑی ریلی نکالیں گے اور اس روز ان کی پارٹی اور ان کے حامیوں کا اندازہ ہو جائے گا۔ ہر برس شیوسینا سربراہ دسہرہ کے روز یہیں ریلی کرتے ہیں۔ راج ٹھاکرے نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب سے انہوں نے اپنے چچا کی پارٹی شیوسینا چھوڑی تھی اسی وقت سے ان کے بارے میں قیاس آرائیوں کا بازار گرم تھا کہ وہ کسی پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں یا دوبارہ پارٹی میں واپس آنے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کا مقصد مہاراشٹر کی از سر نو تشکیل اور اس کی ترقی ہے۔ راج ٹھاکرے نے یہ واضح کیا کہ وہ اپنے چچا بال ٹھاکرے کی جانب سے کی جانے والی کسی بھی تنقید کا کوئی جواب نہیں دیں گے کیونکہ وہ آج بھی ان کی اتنی ہی عزت کرتے ہیں جتنی کہ پہلے کرتے تھے۔ راج ٹھاکرے کا تصور ایک نوجوان لیڈر کے طور پر ہے اور اب تک وہ اپنے مطالبات منوانے کے لیئے پرتشدد طریقہ کار اپناتے آئے ہیں۔ اب ان کا کیا رویہ ہو گا یہ انہوں نے واضح نہیں کیا ہے۔
راج ٹھاکرے نے یہ واضح کیا کہ وہ مل مزدوروں کو ملازمتیں دیں گے۔ انہوں نے ممبئی میں کوہ نور مل شیوسینا کے ہی سابق ممبر پارلیمنٹ منوہر جوشی کے ساتھ مل کر چار سو اکیس کروڑ میں خریدی تھی اور اب اس کی جگہ وہ شاپنگ مال بنا رہے ہیں۔ اس مل میں ہزارہا مہاراشٹرین مل مزدور تھے جو بےروزگار ہو گئے۔ شیوسینا اب تک صرف مہاراشٹر کے مقامی لوگوں کے مفاد کے لیئے ہی کام کرتی آئی ہے اور وہی اس کا ووٹ بینک ہیں۔ راج نے اعلان کیا کہ آئندہ برس مہاراشٹر میں ہونے والے بلدیہ انتخابات میں ان کی پارٹی الیکشن لڑے گی۔ مہاراشٹر کی ممبئی میونسپل کارپوریشن میں ہمیشہ سے شیوسینا کا قبضہ رہا ہے۔ بھارت کی سب سے امیر ترین کارپوریشن کے انتخابات مہاراشٹر کے اہم انتخابات مانے جاتے ہیں۔ سیاسی ناقدین کا خیال ہے کہ اب ایک ہی خیالات اور نظریات کے حامل دو حصوں میں بٹ جائیں گے اس لیئے انتخابات کے نتائج کی پیشن گوئی کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اب شیوسینا کا کارپوریشن پر قبضہ ایک ٹیڑھی کھیر ہو سکتی ہے اور اگر کارپوریشن میں یہ پارٹی اقتدار میں نہیں آتی ہے تو پھر شاید دونوں پارٹیاں کبھی مہاراشٹر کی سیاست میں اپنے قدم ٹھیک سے جما نہیں پائیں گی۔ اس سے پہلے ایک طاقتور لیڈر اور مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلی نارائن رانے کو پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ انہوں نے کانگریس میں شمولیت کے بعد کانگریس کو کوکن علاقے میں کافی مضبوط کیا اور اب بھی سیکڑوں شیوسینک پارٹی چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہو رہے ہیں ۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کئی ٹکڑوں میں بٹ چکی شیوسینا پارٹی کے لیئے سیاسی منظر نامہ پر ابھر کر آنا مشکل ہے اور مقامی مہاراشٹرین کے لیئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ وہ کس پارٹی کا ساتھ دیں۔ بہر حال آئندہ بلدیاتی انتخابات ان پارٹیوں کی کسوٹی ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس موقع پر شیوسینا کے تمام بڑے لیڈران خاموش ہیں اور راج کے حامی بھی مزید کچھ کہنے سے گریز کر رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں شیوسینا کو ایک اور بڑا دھچکہ 18 December, 2005 | انڈیا شیوسینا پارٹی کا خاتمہ؟27 November, 2005 | انڈیا واجپئی کی دھمکی، بھارتی کا احتجاج29 November, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||