اب ممبئی میں’میٹرو‘ چلے گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے ممبئی میں ’میٹرو ریل پراجیکٹ‘ کا افتتاح کر دیا ہے۔ اس منصوبے پر تقریبا دو ارب روپے خرچ ہوں گے اور میٹرو ریل منصوبے کی تکمیل سے ممبئی کی ٹریفک پر قابو پانے میں کافی مدد ملنے کی امید ہے۔ اس منصوبے کو ممبئی شہر کو ایک بہترین تجارتی شہر بنانے کی سمت میں ایک اور قدم مانا جا رہا ہے۔ منصوبے کے افتتاح کے بعد وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ’اس سےممبئی والوں کے لیئے کافی آسانیاں پیدا ہوں گی۔ اس طرح کی سروس سے ٹریفک پر قابو پایا جا سکےگا، توانائی کا خرچ کم ہوگا اور میٹرو ریل ترقی کی راہیں ہموار کرےگی‘۔ اس منصوبے کے افتتاح کے موقع پر وزیراعظم کے ساتھ ان کی کابینہ کے اراکین شرد پوار، مرلی دیورا، جے پال ریڈی، ریاست کے وزیِراعلی ولاس راؤ دیش مکھ،گورنر ایس ایم کرشنا اور صنعت کار انل امبانی بھی موجود تھے۔
میٹرو ریل منصوبے کے پہلے مرحلے پر کام اکتوبر میں شروع ہوگا اور سنہ دو ہزار دس تک اس کی تکمیل کی امید ہے۔ اس کے ذریعے مغربی ممبئی کے علاقے ورسوا کو شمال میں گھاٹ کوپر کے علاقے سے بذریعہ زیرِ زمین ریل جوڑ دیا جائےگا۔ اسی طرح جنوب میں کولابہ سے شمالی ممبئی کے علاقے چارکوپ تک یہ ریل سروس تقریبا ڈیڑھ سو کلومیٹر کے علاقے کا احاطہ کرے گی۔ میٹرو ریل پراجیکٹ ریلائنس انرجی اور ممبئی میٹروپولیٹن ریجنل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ریلائنس انرجی اس منصوبے کی چوہتر فیصد قیمت ادا کرےگی جبکہ باقی خرچ ممبئی ڈویلپمنٹ اتھارٹی اٹھائےگی۔ ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں ہر روز لاکھوں لوگ سفر کرتے ہیں لیکن شہر کی تیزی سے بڑھتی آبادی کی وجہ سے لوکل ٹرینوں میں زبردست بھیڑ ہوتی ہے اور مسافروں کو منزل پر پہنچنے میں کافی وقت لگتا ہے۔ | اسی بارے میں دلی ڈائری: ممبئی اور بنگلور میں بھی میٹرو09 April, 2006 | انڈیا ہندوستان کی عکاس ممبئی لوکل ٹرینیں05 May, 2005 | انڈیا دہلی کی میٹرو24.12.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||