انڈیا ’ماڈل شیعہ نکاح نامہ‘ جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی میں اتوار کے روز آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ کا دوسرا سالانہ اجلاس منعقد ہوا جس میں شیعہ مسلمانوں ماڈل نکاح نامہ پیش کیا۔ شیعہ فرقہ کے مسلمانوں نے خود کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سے خود کو الگ کر لیا تھا اور جنوری سن دو ہزار پانچ میں اپنا علیحدہ بورڈ قائم کیا تھا۔ ممبئی میں ان کا یہ دوسرا سالانہ اجلاس تھا جس میں پورے ہندوستان سے آئے ہوئے علماء نے شرکت کی۔ اس ایک روزہ اجلاس میں بورڈ نے چند تجاویز پیش کیں۔شیعہ مسلم بورڈ نے ایک ماڈل نکاح نامہ بھی پیش کیا۔ اجلاس کا سب سے اہم پہلو ماڈل نکاح نامہ تھا۔ اس نکاح نامہ میں شادی سے پہلے چند شرائط درج ہیں جو لڑکی اور لڑکے دونوں کے لیے علیحدہ ہیں۔ نکاح میں پانچ گواہوں کی موجودگی ضروری ہے۔اس نکاح نامہ کی رو سے لڑکی کو طلاق لینے کا حق حاصل ہو گا۔ اس کے تحت لڑکی اگر چاہے تو شادی کے بعد ملازمت کر سکتی ہے اور ملازمت سے ملنے والی رقم سے اپنے بے سہارا والدین کی کفالت کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ شیعہ نکاح نامہ میں یہ شق بھی موجود ہے کہ اگر مرد خود طلاق دیتا ہے اور عورت کے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جس سے اخراجات پورے ہوں تو جب تک عورت کا ذریعہ معاش نہ بن جائے تو طلاق دینے والے مرد ’اجنبی مرد‘ کے طور پر مطلقہ عورت کے اخراجات اٹھانےکا پابند ہو گا۔ اس ماڈل نکاح نامہ کے آخر میں ایک نوٹ درج ہے جس میں لکھا ہے کہ نکاح نامہ کی شرائط کو ماننا مرد اور عورت کے لیے لازمی نہیں ہے۔ مولانا اطہر سے جب پوچھا گیا کہ اس نوٹ کے بعد نکاح نامہ کی کیا حثیت ہے، تو انہوں نے کہا کہ وہ شریعت اور مذہب سے آگے نہیں جا سکتے اس لیے شرائط کو لازمی نہیں قرار دیا ہے۔ لیکن انہوں نے ساتھ ہی یہ دعوی کیا کہ لوگ اسی ماڈل نکاح نامہ میں بغیر شرائط کو حذف کیے اسے قبول کر لیں گے۔ ممبئی میں مولانا ظہیر عباس رضوی نے نکاح نامہ کے حق میں کہا کہ اسے نوجوان اور فرقہ کا ہر شخص اس لیے قبول کر لے گا کیونکہ اسے عراق میں شیعوں کے رہنما سید علی سیستانی کی منظوری مل گئی ہے۔ بورڈ کے صدر مولانا مرزا محمد اطہر نے ملک میں شیعہ فرقے کو ان کے الگ حقوق دینے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ بورڈ نے حکومت سے اپنے ساتھ ہونے والی سیاسی ناانصافی کا شکوہ کیا۔مولانا اطہر نےدعوی کیا کہ ملک میں پانچ کروڑ کے قریب شیعہ ہیں لیکن حکومت میں ان کی نمائندگی صفر ہے۔ اس کے علاوہ بورڈ نے حکومت میں شعیوں کو سرکاری عہدے دیئے جانے کے بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ ملک میں مسلمانوں کو شک و شبہ کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ خود کو ملک میں غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔اس کے لیے مہاراشٹر کی مثال دی گئی اور کہا گیا کہ مذکورہ ریاست میں مسلمانوں کے ساتھ بہت برا سلوک کی جا رہا ہے۔ بورڈ نے حکومت سے یوپی اور بہار کی طرز پر پورے ہندستان میں شیعہ وقف بورڈ قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ بورڈ نے اپنی تجاویز میں مطالبہ کیا کہ صرف مرکزی حج کمیٹی میں شیعہ فرقہ کو نمائندگی نہ دی جائے بلکہ فقہ جعفریہ کی طرز پر شیعہ فرقہ کو حج کے ارکان ادا کرنے کی بھی سہولت دی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مصر، ایران اور عراق جانے والے زائرین کو رعایت دی جائیں۔ شیعہ بورڈ نے سچر کمیٹی کی سفارشات پر ذات اور فرقہ کی بنیادوں پر ریزرویشن کی مخالفت کی اور کہا کہ مسلمانوں کو تعلیم اور ان کی اقتصادی حالات کی بنیاد پر مراعات دی جائیں۔ بورڈ نے سچر کمیٹی کی شکایت کی کہ کمیٹی ممبران نے شیعہ طبقہ کے کسی بھی عالم دین یا نمائندے کو طلب کر کے ان کے حالات جاننے کی کوشش نہیں کی۔ | اسی بارے میں مسلم پرسنل بورڈ تقسیم10 December, 2004 | انڈیا پرسنل لاءکے مسئلے پراختلافات10 February, 2005 | انڈیا مسلم پرسنل لاء، ماڈل نکاح نامہ تیار25 December, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||