پرسنل لاءکے مسئلے پراختلافات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی مسلمان آبادی کو، جو انڈونیشیا کے بعد دنیا میں تعداد کے لحاظ سے سب سے زیادہ ہے، اہم سماجی تبدیلیوں کا سامنا ہے۔ حال ہی میں ہندوستان کے شیعہ مسلمان ملک میں اس کمیونٹی کے سب سے طاقتور ادارے یعنی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سے علیحدہ ہوگئے اور خواتین کا ایک گروپ بھی اپنے لئے زیادہ نمائندگی کی خواہش لئے کوشاں ہے۔ انڈیا کے آئین کے مطابق مسلمانوں کو شادی بیاہ، طلاق، جائیداد وغیرہ کے معاملات میں علیحدہ قوانین سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے اور بورڈ کے ایک رکن خالد رشید کے مطابق اسِ بورڈ کا کام مسلمانوں کے مختلف فرقوں کو اسلامی قوانین کے تحت متحد رکھنا ہے۔ لیکن اب انڈیا کے شیعہ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ 1972 میں قائم کئے گئے اس بورڈ میں انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ انڈیا میں تقریباً ساڑھے چودہ کروڑ مسلمانوں میں سے دو کروڑ شیعہ ہیں۔
علیحدہ ہونے والے آل انڈیا شیعہ مسلم لاء بورڈ کے صدر مولانا محمد اطہر کا کہنا ہے کہ چونکہ مسلم لاء بورڈ نے شیعہ مسلمانوں کے مفاد کا خیال نہیں رکھا لہٰذا ان کے لئے الگ ہوجانا بہتر تھا۔ علیحدہ ہونے والے شیعہ بورڈ کو لکھنؤ کے شاہی خاندان کی حمایت بھی حاصل ہے۔ شعیہ مسلمانوں کا الگ پرسنل لاء بورڈ بنانا ایک طرح سے تبدیلی کی اُس لہر کا حصہ جو انڈیا کی مسلمان آبادی میں چل نکلی ہے۔ فروری کے اوائل میں مسلمان خواتین نے بھی بورڈ پر یہ الزام لگاتے ہوئے آل انڈیا خواتین مسلم پرسنل لاء بورڈ کا قیام کیا کہ خواتین کے حقوق کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ اس پیش رفت پر مسلم لاء بورڈ کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا اور انہوں نے اسے ایک مذاق قرار دیا۔ لیکن علیحدہ ہونے والے یہ دونوں گروپ عام لوگوں کی کتنی حمایت حاصل کرسکتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||