’ممبئی کے ہندو، مسلم رہائشی فلیٹ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹیلی ویژن اداکار عامر علی نے ممبئی کی ایک سوسائٹی کے خلاف درخواست دائر کی ہے کہ اس نے انہیں اس وجہ سے فلیٹ دینے سے انکار کردیا کہ وہ مسلمان ہیں۔ عامر نے مفاد عامہ کی عرضداشت میں مطالبہ کیا ہے کہ عدالت ممبئی کی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو ہدایت دے کہ وہ مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو فلیٹ دینے سے انکار نہ کریں۔ ممبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سوتنتر کمار اور جسٹس ڈی وائی چندر چوڈ کی ڈویژن بینچ نے مہاراشٹر کی حکومت کو اس سلسلہ میں حلف نامہ داخل کرنے کے لیے چار ہفتوں کا وقت دیا ہے۔ عامر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے یہ اقدام ہم سب کے لیے کیا ہے کیونکہ میں نہیں سمجھتا کہ کسی بھی سوسائٹی کو قانونی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ مذہب یا فرقہ کی بنیاد پر کسی کو فلیٹ دینے سے انکار کرے۔‘
ایجنٹ نے انہیں کئی گھر دکھائے لیکن عامر کو لوکھنڈ والا (اندھیری ) کی جس عمارت کا فلیٹ پسند آیا اس میں انہیں یہ کہہ کر فلیٹ دینے سے انکار کر دیا یہاں مسلمانوں کو فلیٹ نہیں دیا جاتا۔ عامر کہتے ہیں کہ انہیں اس پر حیرت ہوئی اور انہوں نے اس کا ذکر اپنے کئی دوستوں سے کیا اور ان کا جواب سن کر مزید حیرت ہوئی کیونکہ ان سب کا یہی کہنا تھا کہ ایسا کئی سوسائٹیوں نے اب اپنا اصول یہی بنا لیا ہے۔ عامر کو حالانکہ لوکھنڈوالا میں ہی گرین ولا اپارٹمنٹ میں فلیٹ مل گیا ہے لیکن انہوں نے اس کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کر لیا۔ عامر کے وکیل مصطفے موتی والا نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کیس انہوں نے کافی عرصہ پہلے عدالت میں داخل کیا تھا لیکن عدالت میں اس کی سماعت اب شروع ہوئی ہے۔ موتی والا نے عدالت میں جو اپیل داخل کی ہے اس کہا گیا ہے کہ ملک کا دستور ہر شہری کو برابر کے حقوق دیتا ہے اور مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک دستور کی دفعہ چودہ، اکیس اور پچیس کے خلاف ہے۔ اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ سوسائٹیوں کے اپنے کیے بنائے اصولوں میں اب تبدیلی لانے کی ضرورت ہے کیونکہ اپنے بنائے گئے اصول کی کاپی دکھا کر سوسائٹی اپنا دامن بچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ نامور سکرپٹ رائٹر جاوید صدیقی کی بیٹی بھی اسی رویے کا شکار ہو چکی ہیں۔صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی بیٹی کافی عرصہ سے ایک اچھی سوسائٹی میں فلیٹ حاصل کرنے کی خواہشمند ہیں لیکن ایسی سوسائٹیوں میں انہیں یہ کہہ کر واپس کر دیا جاتا ہے کہ چونکہ وہ ایک مسلمان ہیں اس لیے انہیں یہاں فلیٹ نہیں دیا جا سکتا۔
ممبئی طبقوں میں بٹ چکی ہے۔ اس طرح کی شکایت سماجی تنظیم مجلس کی ایڈوکیٹ فلاویہ اگنیس کو بھی ہے۔ اگنیس ایک عیسائی ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ ’جب مجھے اپنے دفتر کے لیے جگہ چاہیے تھی تو کئی سوسائٹیوں نے انہیں یہ کہہ کر دفتر دینے سے انکار کر دیا کہ وہ عیسائی ہیں اور ان کی سوسائٹی سوائے ہندؤں کے کسی کو جگہ نہیں دیتی۔‘ اگنیس کے مطابق سوسائٹی نے اس کاجواز یہ دیا کہ مسلمان اور عیسائی گوشت کھاتے ہیں اور یہاں جو ہندو رہتے ہیں وہ سبزی خور ہیں اس لیے انہیں مکان نہیں دیا جائے گا۔ اگنیس اس وجہ کو غلط مانتی ہیں۔ صدیقی البتہ کہتے ہیں کہ حالات عیسائیوں سے زیادہ مسلمانوں کے لیے خراب ہوئے ہیں۔ ’ممبئی میں حالات اس وقت بگڑے جب امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ ہوا۔اس کے بعد ممبئی میں کئی بم دھماکے ہوئے اور تفتیشی ایجنسیوں نے اس کے لیے مسلم تنظیموں کو ذمہ دار قرار دیا۔اب اچھی سوسائٹیوں میں مسلمانوں کے لیے مکان حاصل کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے اور اگر یہی حال رہا تو ممبئی مزید طبقوں میں بٹ جائے گی اور اس کا وہ کاسموپولیٹن کلچر ختم ہو جائے گا جس کے لیے یہ ملک بھر میں مشہور ہے۔‘ | اسی بارے میں ’ملکی ترقی میں مسلمان کا حصہ کم‘27 December, 2006 | انڈیا ’مذہب کی بنیاد پرگنتی نہیں ہوگی‘17 May, 2007 | انڈیا تیس ہزار ہندوؤں کی تبدیلی مذہب27 May, 2007 | انڈیا مغربی بنگال کے مدارس میں ہندو طلبہ18 June, 2007 | انڈیا کشمیر: ’مسلم پرسنل لا‘ بل منظور16 February, 2007 | انڈیا پردے پر اتنی بحث آخر کیوں؟19 November, 2006 | انڈیا بڑودہ فسادات اور ہندو مسلم تفریق09 May, 2006 | انڈیا جموں: حج کوٹہ میں کمی پرتشویش08 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||