BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 May, 2007, 07:14 GMT 12:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مذہب کی بنیاد پرگنتی نہیں ہوگی‘
وزیر دفاع اے کے انٹنی (فائل فوٹو)
’مسلح افواج کے دروازے سب ہی ہندوستانیوں کے لیے کھلے ہیں‘
ہندوستان میں حکومت کا کہنا ہے کہ مسلح افواج میں مذہب کی بنیاد پرگنتی نہیں کی جائے گی کیونکہ ایسا کرنے سے فوج کے سکیولر اور غیر سیاسی امیج کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

بدھ کو راجیہ سبھا میں ایک تحریری سوال کے جواب میں وزیر دفاع اے کے انٹنی نے کہا: ’افواج میں اس طرح کی تعداد کے تعین کو سود مند نہیں مانا گيا کیونکہ ایسا کرنے سے افواج کی اخلاقیات اور ربط پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔‘

اے کے انٹنی سے جب یہ پوچھا گیا کہ مسلح افواج نے مسلمانوں کی اقتصادی اور تعلیمی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی راجیندر سچّر کمیٹی کوافواج کی تینوں شاخوں میں مسلمانوں کی تعداد بتانےسے کیوں انکار کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ فوج ایک سکیولر اور غیر سیاسی ادارہ ہے۔

وزیر دفاع نے پارلیمان میں بتایا کہ افواج میں بحالی خالصتاً صلاحیت اور بلا امتیاز مذہب، ذات اور خطے کی بنیاد پر ہوتی ہے اور افواج کے دروازے سب ہی ہندوستانیوں کے لیے کھلے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملکی افواج میں جو افراد کام کر رہے ہیں وہ سب فرقوں اور خطوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنا فرض منصبی بلا تفریق ذات اور مذہب کے انجام دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس حکمراں ترقی پسند اتحاد کی جانب سے قائم کی گئی راجیندر سچّر کمیٹی نے فوج کی تینوں شاخوں میں مسلمانوں کی تعداد بتانے کے لیے کہا تھا۔

اس وقت حکومت کی جانب سے سچر کمیٹی کی تشکیل کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتوں نے زبردست مخالفت کی تھی اور مسلح افواج میں مسلمانوں کی گنتی کو ہندو نظریاتی تنظیموں نے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ اور اقلیتوں کو خوش کرنے والا اقدام بتایا تھا۔

سچر کمیٹی نے افواج سے مسلمانوں کی تعداد کی تفصیلات گزشتہ سال مارچ میں طلب کی تھیں لیکن اس وقت فوج کے سربراہ جے جے سنگھ نے یہ کہہ کر اس کی مخالفت کی تھی کہ اس سے فوج کو ایک غلط اشارہ ملے گا جو بنیادی طور پر ایک غیر سیاسی اور سکیولر ادارہ ہے۔

خیال رہے کہ دیگر ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مسلح افواج میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم بتائی جاتی ہے۔

بھارتی فوجبھارتی فوج
خود کشی کے رجحان کی وجہ ’ذہنی دباؤ‘
اسی بارے میں
کشمیر میں فوج کی بھرتی
07 March, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد