BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 June, 2006, 05:59 GMT 10:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجداری نظامِ انصاف کی اصلاح

جیل
نئے نظام سے قریباً پچاس ہزار قیدیوں کو فائدہ ہوگا
ہندوستان میں’ کرمنل جسٹس سسٹم‘ یعنی فوجداری نظام انصاف میں اصلاحات کے لیئے ایک نئے قانون کا نفاذ کیا گیا ہے۔

حکومت نے اس نظام میں کئی اہم تبدیلیاں کی ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے ان نئی تبدیلیوں سے قیدیوں کے ساتھ ساتھ جیلوں کی بھی حالت بھی بہتر ہونے کی امید ہے۔

حکومت نے فوجداری نظام انصاف میں ایک نئی اور اہم دفعہ ’436 اے‘ کا اضافہ کیا ہے۔ تعزیراتِ ہند کی اس دفعہ کے تحت ایسے مقدمات کے علاوہ جن میں عمر قید کی سزا ممکن ہو، کسی بھی مقدمے میں جو سزا تجویز کی گئی ہے اس کی آدھی مدت سے زیادہ ملزم کو جیل میں نہیں رکھا جا سکے گا۔ یعنی اگر کسی جرم کی سزا چھ سال ہے تو تین برس سے پہلے ملزم کے مقدمے کا فیصلہ ہوجانا چاہیئے ورنہ تین برس کے بعد اسے ہر صورت میں ضمانت پر رہا کرنا ہو گا۔ تاہم جن مقدمات میں عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے وہ اس قانون سے مستثنٰی ہوں گے۔

حکومت نے کرمنل جسٹس سسٹم کے قوانین میں یہ تبدیلیاں گزشتہ برس کی تھیں تاہم ان کا نفاذ تیئس جون دوہزار چھ سے ہوا ہے۔

وزیر داخلہ شیو راج پاٹل نےان تبدیلیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ’ کرمنل جسٹس سسٹم کی اصلاحات کے عمل میں یہ ایک مثبت قدم ہے۔ اس سے معاملے کی تفتیش جلد ہوگی، مقدمے کی سماعت کی پوری مشینری مضبوط ہوگی اور بہت سے زیرِ سماعت مقدمات جلدی حل ہوں گے‘۔

فی الوقت ہندوستان کی مختلف جیلوں میں ہزاروں افراد محض اس لیئے جیل میں قید ہیں کیونکہ ان کے مقدمے کی سماعت برسوں سے جاری ہے اور کوئی فیصلہ نہیں ہو پایا ہے۔ جیل اصلاحات کے لیئے مشہور سینیئر پولیس افسر کرن بیدی کا کہنا ہے کہ پولیس، عدلیہ اور گواہ سبھی اپنے اپنےعذر پیش کرتے رہتے ہیں جس سے ’کرمنل جسٹس سسٹم‘ سست روی کا شکار رہا ہے لیکن اب اس میں تیزی آئےگي۔

ان کا کہنا تھا کہ’اس سے پولیس پر تفتیش تیز کرنے کا سخت دباؤ ہوگا،عدالتیں بھی جلدی فیصلہ کریں گی اور یہ سماج کے لیئے بھی ایک پیغام ہے کہ وہ فوجداری معاملات میں انتظامیہ کی مدد کرے‘۔

سابق چیف جسٹس آف انڈیا جے ایس ورما کا کہنا ہے کہ قانون میں نئی تبدیلیوں سے قیدیوں اور جیلوں کی اصلاح تو ہوگي لیکن صرف یہی کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ’جیل میں اصلاحات، قیدیوں کی حالات بہتر بنانے اور انسانی حقوق کا خیال رکھنے کے لیئے ابھی اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے‘۔

اس وقت انڈیا کی مختلف جیلوں میں لاکھوں لوگ قید ہیں جن میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں جن کے جرم کی سزا محض پانچ یا چھ برس ہے لیکن ان کا مقدمہ ختم نہ ہونے کے سبب وہ کئی برس سے جیل میں پڑے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تقریباً پچاس ہزار قیدی اس نئے قانون سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

اسی بارے میں
رہائی کی امید پھر زندہ
09 September, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد