غیر فوجی قیدیوں کے تبادلے پراتفاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو روز سے جاری بھارت اور پاکستان مذاکرات کے بعد ان تمام ماہی گیروں اور غیر فوجی قیدیوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے جواپنی قید کی مدت پوری کر چکے ہیں۔ دونوں ملکوں کے داخلہ سیکٹریوں اور ان کے وفود کے درمیان ہونے والی اس بات چیت میں یہ بھی طے پایا ہے کہ ایک دوسرے کے شہری کی گرفتاری کی صورت میں ایک دوسرے کو اطلاع دی جائے گی اور ساتھ ہی سفارتکاروں کو قیدی سے ملنے کی اجازت ہوگی۔ دونوں ملکوں نے دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے موثر اقدامات کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ بات چیت کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ منشیات کی سمگلنگ اور دہشت گردی کے سوال پر ہونے والی بات چیت بہت اچھے ماحول میں ہوئی اور اس میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے۔ مشترکہ بیان کے مطابق سی بی آئی اور فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔ پاکستان کے داخلہ سیکریٹری سید کمال شاہ نے دوروزہ مذاکرات کو انتہائی کارآمد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جامع مذاکرات کے تحت سبھی مقررہ موضوعات پر اچھی پیش رفت ہوئی ہے اور امید ہے کہ جب مزید بات چیت ہوگی تو اس میں مزید کامیابی ملے گی۔ اطلاعات کے مطابق بات چیت کے دوران بھارت اور پاکستان کو بیس انتہائی مطلوبہ افراد کی فہرست دی ہے۔ جن میں داؤد ابراہیم کے علاوہ، حزب المجاہدین کے رہنما صلاح الدین کا نام شامل ہے۔ پاکستان نے بھی سینتیس افراد کی ایک فہرست پیش کی ہے اور کہا ہے کہ یہ افراد منشیات کی سمگلنگ میں ملوث تھے اور وہ بھارت میں موجود ہیں۔ بعض ذرائع ابلاغ کےمطابق فہرستوں کے سلسلے میں دونوں وفود کے درمیان کافی اختلافات ابھر کر سامنے آئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||