رہائی کی امید پھر زندہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قوتِ سماعت وگویائی سے محروم بچوں سمیت سینکڑوں پاکستانی باشندے ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر کی جیلوں میں اپنی سزائیں پوری ہونے کے باوجود قید و بند کی زندگی گزار رہے ہيں۔ حکومت کے ذرائع کے مطابق دو سو سے زائد پاکستانی شہری جموں، ادھم پور ، کھٹوا اور ہیرانگر جیلوں میں بند ہیں۔ ان میں سے بیشتر کی سزا پانچ چھ برس قبل ہی ختم ہو چکی ہے لیکن انہیں واپس اپنے وطن نہیں بھیجا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں قیدیوں کی رہائی کے فیصلے سے کئی قیدیوں کی امیدیں دوبارہ زندہ ہو گئی ہیں۔ ریاستی حکومت کے ذرائع کے مطابق آئندہ مہینے کے 12 تاریخ کو جن پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا جا رہا ہے ان میں 26 جموں و کشمیر کی جیلوں میں بند ہیں۔ ریاستی حکومت کے ایک اعلی افسر نے بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ’ ہم نے ان لوگوں کی فہرست مرکزی حکومت کو بھیج دی ہے اور امید ہے کہ ان میں سے بیشتر کو واپس پاکستان بھیج دیا جائے گا‘۔ ان افراد میں سے بیشتر ایسے ہیں جو غلطی سے سرحد پار سے ہندوستان کے زیر انتظام علاقے میں آ گئے تھے۔ جیلوں میں بند بعض بدنصیب ایسے ہیں جو اپنا نام و پتہ بھی نہیں بتا سکتے ہیں۔ پاکستان کے ایسے ہی چار بچے جموں کی کوٹھ بھلوال جیل میں تقریباً تین سال سے بند ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ بچے بولنے اور سننے سے معذور ہیں جس کی وجہ سے ان کا نام اور پتہ بھی نہیں معلوم ہو سکا ہے۔ ان میں سے تین بچوں کو جموں کے آر ایس پورہ کے سرحدی علاقے سے تقریبا تین برس قبل بی ایس ایف کے جوانوں نے گرفتار کیا تھا۔ ہندوستان کی سرحد میں غلطی سے داخل ہونے کی سزا چھ مہینے کی قید ہے۔ سزا ختم ہونے کے بعد ان بچوں پر ’جموں وکشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ‘ کے تحت جموں کی کوٹھ بھلوال کیل میں منتقل کیا گیا جہاں یہ گمنامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اپنے گھروں سے کافی دنوں تک دور رہنے کی وجہ سے بعض بچوں کا ذہنی توازن بھی بگڑ رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق تقریبا چھ سے آٹھ پاکستانی قیدی جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں اپنا دماغی توازن کھو چکے ہیں۔ جیل کے میڈیکل ونگ نے 2003 میں ان بچوں کی فہرست ریاستی حکومت کو بھیجی تھی اور ان بچوں کے نفسیاتی علاج کا مطالبہ کیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||