’وہ جومحاذ سے نہیں لوٹے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’پاپا کے ساتھ گزارنے کے لیے اب کچھ ہی برس بچے ہیں ۔ بھارت اور پاکستان ہماری جو بھی مدد کر سکتے ہیں وہ خدا کے لیے کريں‘۔ یہ اپیل ہے مینو جین کی جو گزشتہ 34 برس سے اپنے والد اسکواڈرن لیڈر ایم کے جین کا انتظار کر رہی ہیں ۔ اسکواڈرن لیڈر جین 1971 کی پاک و ہند جنگ کے دوران ’مسنگ ان ایکشن‘ قرار دیے گئے اور آج تک واپس نہیں لوٹے۔ جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی بیواؤں کی تنظیم اور بعض غیر سرکاری تنظیموں نے 1971 کی جنگ میں لاپتہ ہونے والے 54 فوجیوں کی رہائی کے لیے بھارت اور پاکستان کی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر ان کی رہائی پر غور کریں۔ ان فوجیوں کے رشتے داروں کا خیال ہے کہ یہ فوجی آج بھی پاکستان کی جیلوں میں قید ہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں ہی ممالک اس طرح کے جنگی قیدیوں کی موجودگی سے انکار کرتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 1971 کی جنگ میں بہت سے فوجی ایسے تھے جو سرحد پر تو گئے لیکن وہ کبھی واپس نہیں آئے اور نہ ہی انکی لاشیں ملی ہیں۔
34 برس گزر چکے ہیں لیکن ان واپس نہ آنے والے فوجیوں کے رشتےدار یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ وہ مر چکے ہیں- میجر اے کے سوری بھی جنگ کے ابتدائی دنوں میں محاذ پر گئے تھے اور کبھی واپس نہیں لوٹے۔ ان کے بھائی بھرت کمار سوری کو یقین ہے کہ وہ اب بھی زندہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ انہیں یقین ہے کہ بھارتی فوجی پاکستان کی جیل میں ابھی بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جیلوں میں وقت گزار کر آنے والےلوگ بتاتے ہیں کہ وہاں کچھ لوگ قید ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حکومت چاہے تو ان لاپتہ فوجیوں کا پتہ لگا سکتی ہے اور ایجنسیوں سے اس بارے میں معلومات کروا سکتی ہے لیکن حکومت کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ وہ اس سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ ان رشتے داروں کا کہنا ہے کہ ان میں سے بہت سے فوجیوں کو جنگ سے قبل پکڑا گیا تھا۔ اس لیے انھیں جنگی قیدیوں میں نہیں بلکہ جاسوس یا دوسرے قیدیوں کے زمرے میں تلاش کرنا چاہیے۔
20 سالہ نوجوان آشوتوش کے چاچا ان کے مطابق پاکستانی جیل میں ہیں ۔ آشوتوش کا کہنا ہے ’اگر سرب جیت سنگھ کے کیس پر دونوں ملکوں کے ضمیر اور انسانیت کو جھنجھوڑا جا سکتا ہےتو 54 خاندانوں کے لیے کیوں نہیں، 1987 میں ان قیدیوں کی تلاش شروع کی گئی تھی اور اس سلسلے میں بھارت کے چھ خاندان پاکستان بھی گئے تھے لیکن اچانک حالات بگڑ گئے اور پورا مشن ناکام ہو گيا تھا۔ سربجیت عرف منجیت سنگھ کےمعاملے سے ان خاندانوں کے لیے ایک بار پھر امید پیدا ہوئی ہے۔ ’وار ویڈو ایسوسی ایشن‘ اور ’مسنگ ان ایکشن گروپ‘ نے بعض غیر سرکاری تنظیموں کی مدد سے ان کھوئے ہوئے فوجیوں کے بارے میں ایک بار پھر آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ دنوں اسی طرح کی ایک کوشش دارالحکومت دلی میں کی گئی جہاں ان خاندانوں کے افراد جمع ہوئے۔
ان کی حمایت میں فلم اداکار راج ببر اور سماجی کارکن موہنی گری سمیت بہت سے لوگ اس مہم میں شامل ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک کوئی سیاسی معاملہ نہیں ہے اور اسے پوری طرح انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر دیکھا جانا چاہیے۔ لاپتہ فوجیوں کے رشتےدار اپنے ہاتھوں میں تختیاں اٹھائے ہوئے تھے جس پر لکھا تھا’ کیا تم یہ سمجھ رہے ہو مسکرانے کی آرزو کر کے ہم نے شاید کوئی بڑی خطا کی ہے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||