BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی بھگوڑوں کی قبر سے واپسی
بھارت
پانچ سال بعد خاندانوں کے ساتھ ڈرامائی ملاپ
پاکستانی جیل سے رہائی کے بعد جگسیر سنگھ اور محمد عارف جب سرحد پار کر کے بھارت میں داخل ہوئے تو ان کو خوش آمدید کہنے کے لیے آنے والوں میں خاندان کے افراد کے علاوہ صحافیوں کی ایک بڑی تعداد بھی وہاں موجود تھی۔

دونوں بھارتی فوجیوں کو پاکستانی فوج نے بھارت کے کارگل سیکٹر میں گرفتار کیا تھا۔

پانچ سال جیل میں گزارنے کے بعد ان کا نمودار ہونا ایسے تھا جیسے وہ قبروں سے نکل آئے ہوں۔ چونکہ ان کی گرفتاری کو کہیں ریکارڈ نہیں کیا گیا تھا جب وہ اپنے یونٹ میں واپس نہیں آئے تو انہیں فوجی بھگوڑوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا تھا۔

اپنی فوج حکام کی طرف سے ان کو فوجی بھگوڑے قرار دیے جانے کے بعد ان کے خاندانوں کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ فوجی حکام کے فیصلے کی وجہ ان کے خاندان نہ صرف بے عزت ہوئے بلکہ پولیس بھی انہیں تنگ کرتی رہتی تھی۔

بھگوڑا ہونے کا دکھ اور بے عزتی کا غم ایسا تھا کہ جگسیر سنگھ کے والد اسے برداشت نہ کر سکے اور اس جہان سے چل بسے۔

اسی طرح عارف کی ماں اپنے بیٹے کو دوبارہ دیکھنے کی خواہش دل میں لیے فوت ہو گئی۔

مگر پیر کو جب دونوں اشخاص ڈرامائی انداز میں بھارت میں داخل ہوئے تو وہ جنگی قیدی رہا ہو کر آئے نہ کہ فوجی بھگوڑوں کی حثیت سے۔

ان دونوں کو ویسے ہی جوش اور ولولے سے خوش آمدید کہا گیا جیسا نیلسن منڈیلا کے جیل سے رہا ہونے پر خوش آمدید کہا گیا تھا۔

ابھی کچھ ہی ماہ پہلے پاکستان کی فوج نے مانا تھا کہ انہوں نے انیں سو ننانوے میں کارگل کی جنگ میں ان دونوں کو قیدی بنایا تھا۔اس کے بعد جگسیر سنگھ کو اجازت دی گئی کہ وہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے اپنی ماں کو خط بھیج سکے۔

پاکستانی حکام نے ان قیدیوں کو ہار پہنا کر اور مٹھائی دے کر بھارتی حکام کے حوالے کیا۔ زیرو لائن پر اعلیٰ فوجی اور بارڈر سکیورٹی فورس کے افسران نے ان کو خوش آمدید کیا۔

خوشی سے مسکراتے وہ دونوں آخری چند قدم چل کر اپنے خاندانوں اور رشتہ داروں سے ملے۔ پھر کافی دیر تک جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ وہ سب گلے مل رہے تھے اور آنسو بہا رہے تھے۔

جگسیر کی ماں چھوٹو کور بیٹے سے ایسے بغلگیر ہوئی کہ جیسے اب وہ اسے کبھی نہیں چھوڑے گی۔ اور پھر اس نے پہلی دفعہ اپنی چھوٹی بیٹی ساروج کو اٹھایا۔ ساروج جگسیر کی قید میں جانے کے ایک ماہ بعد پیدا ہوئی تھی۔

اور آخر میں وہ اپنی بیوی جسوندر سنگھ سے ملا جس کے گال خوشی کے آنسوؤں سے بھیگے ہوئے تھے۔ اس کا خاوند اتنا عرصہ دور رہا کہ جسوندر کو مجبور کیا گیا کہ وہ ساروج کو اپنی دادی کے پاس چھوڑ میکے جانے پر مجبور ہوئی۔

پچھلے ہفتے اسے یقین نہیں آیا جب اسے خط ملا جس سے اسے پتہ چلا کہ اس کا خاوند پاکستان میں ہے اور جلد ملک واپس آرہا ہے۔ انہوں نے کہا: ’میرا خیال نہیں تھا کہ یہ اتنی جلدی ہوجائے گا‘۔

محمد عارف کے لیے بھی گھر لوٹنا اتنا ہی جذباتی تھا۔ اسے اپنی ماں کی موت کے علاوہ یہ خبر بھی بہادری سے سننا پڑی کہ اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی نے اسے مرا ہوا سمجھ کر دوسری شادی کر لی ہے۔

ان جذباتی لمحات کے دوران بھارتی فوجی افسران ان دونوں کو اپنے ساتھ لے گئے تاکہ ان دونوں کی تفصیل سے ’ڈی بریفنگ‘ کی جا سکے۔

وہاں پر موجود ایک اعلیٰ فوجی افسر نے بتایا کہ ان فوجیوں کی گرفتاری اور ان کو بھگوڑا قرار دینے پر تحقیق کی جائے گی۔

اس سے پہلے بھارت نے ایک پاکستانی فوجی سلیم علی شاہ اور تین شہریوں کو رہا کیا اور انہیں پاکستان کے حوالے کیا۔ خیال ہے کہ اس پار بھی اسی طرح کے جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے ہوں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد