فوجی رازوں کی فروخت کی تحقیقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزير دفاع پرنب مکھر جی نے کہا ہے کہ حکومت ان الزامات کی تحقیقات کرائے گی کہ 1965 کی ہند پاک جنگ کے دوران ایک ہندوستانی اعلیٰ فوجی اہلکار نے ہندوستان کے اہم فوجی راز پاکستان کو فروخت کئے تھے۔ پاکستان کے سرکردہ اخبار ’نیوز‘ نے خبر شائع کی ہے کہ قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اور فوجی حکمراں ایوب خان کے صاحبزادے گوہر ایوب خان نے اپنی زیر اشاعت سوانح عمری میں لکھا ہے کہ ایک ہندوستانی بریگیڈیئر نے فوجی منصوبے کی تفصیلات محض 20 ہزار روپے میں انکے والد کے ہاتھوں فروخت کی تھیں۔ گوہر ایوب نے بریگیڈیئر کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے لیکن اتنا ضرور بتایا ہے کہ متعلقہ فوجی اہلکار اب بھی حیات ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس کی شناخت اپنی کتاب میں ظاہر کریں گے۔ وزیر دفاع پرنب مکھرجی نے کہا ہےکہ یہ قرین قیاس نہیں ہے کہ کوئی فوجی افسر محض 20 ہزار روپے کے لئے فوجی نوعیت کے اہم راز فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو الزامات لگائے گئے ہیں انکا تعلق چالیس برس قبل سے ہے لیکن پھر بھی ان کی حکومت اس معاملے کی تحقیقات کرائے گی ۔ پیسے لے کر فوجی راز فروخت کرنے کی خبر آج بیشتر اخبارات نے شائع کی ہے اور ملک کے کئی ٹی وی چینلز پر مسٹر خان کا انٹرویو بھی پیش کیا گیا ہے۔ دلی میں یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ متعلقہ بریگیڈیئر کون ہو سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||