بھارت: شمال مشرق میں فوجی کارروائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ ملک کے شمال مشرق میں باغیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ بھارت کے شمال مشرق میں چالیس کے قریب باغی گروہ سرگرم ہیں جن میں سے زیادہ تر کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ہمسایہ میں اڈے استعمال کرتے ہیں۔ برما نے شدت پسندوں کو سرحد پار کرنے سے روکنے کے لیے بھارت کی ریاست منی پور کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں جو فوجی کارروائی کا مرکز ہے۔ بھارت کے شمال مشرق میں بہت سے ایسے گروہ ہیں جو سرحد کے آر پار آتے جاتے رہتے ہیں۔ بھارتی فوج نے گزشتہ ماہ اس کارروائی کا آغاز کیا تھا لیکن اس دور دراز ریاست میں جاری کارروائی کے بارے میں اب بتایا گیا ہے۔ فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ انہوں نے تین مختلف گروہوں سے تعلق رکھنے والے پندرہ سو جنگجؤوں کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برما نے ان جنگجؤوں کو فرار ہونے سے روکنے کے لیے سرحد پر فوجی تعینات کر دیئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کارروائی میں صرف بھارتی فوج حصہ لے رہی ہے۔ گزشتہ مہینے بھارت کے دورے کے دوران برما کے فوجی سربراہ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ باغیوں کو بھارت میں کارروائیوں کے لیے اپنی سر زمین استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ منی پور میں اب تک کی کارروائی میں دو بھارتی فوجی اور تیرہ باغی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ فوج نے چونتیس باغی گرفتار کیے ہیں۔ انہوں نے کہ باغی گھر چکے ہیں اور فوج عنقریب ان کے ٹھکانوں تک پہنچ جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||