منی پور :مذاکرات کی پیشکش مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں انسداد دہشت گردی سے متعلق متنازعہ قانون کے خلاف مہم چلانے والوں نے وفاقی حکومت کے ساتھ بات چیت کی پیشکش کو مسترد کر دیا ۔ تحریک کے ترجمان نے کہا کہ منی پور میں اس وقت تک مظاہرے ہوتے رہیں گے جب تک اسپیشل آرمڈ فورسز ایکٹ یعنی فوج کو زیادہ اختیارات دینے والے قانون کو ختم نہیں کیا جاتا۔ وزیرداخلہ شیوراج پاٹل نے ایک بیان میں کہاتھاکہ مرکزی حکومت اس سلسلے میں تمام گروہوں کےساتھ بلاشرط بات چیت کے لئے تیار ہے۔ بدھ کے روز ایک بیان میں مرکزی حکومت نے کہا تھا کہ ریاستی حکومت حالات سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے۔ ادھر اس قانون کے خلاف احتجاجاً خود سوزی کرنے والے پیبام چترنجن کی آخری رسومات ان کے گھر والوں کی خواہش کے خلاف ادا کئے جانے کے بعد تازہ مظاہرے شروع ہو گئے ہیں ۔ان کے گھر والے ان کا جنازہ ایک جلوس کی شکل میں لیجانا چاہتے تھے لیکن حکام نے اس کی اجازت نہ دیتے ہوئے ان کی آخری رسومات خود ادا کر دیں ۔ ریاستی حکومت نے حالات پر قابو پانے کے لۓ احتجاج کرنے والی تنظیموں کے لیڈروں کی گرفتاریاں شروع کر دی ہیں۔ پولیس نے اس سلسلے میں تقریبا تیس افراد کو گرفتار بھی کیا ہے جس میں سے آٹھ خواتین ہیں۔گرفتاری سے بچنے کے لۓ کئی لیڈر روپوش بھی ہو گۓ ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ وفاقی حکومت ریاست میں صدر راج کے نفاذ پر بھی غور کر رہی ہے۔ لیکن تجزیہ نگاروں کے مطابق ریاستی حکومت کو برخاست کرنا اتنا آسان کام نہیں ہوگا۔ اس قانون کے خلاف آوازیں اس وقت اٹھنی شروع ہوئی تھیں جب گزشتہ جولائی کے مہینے میں مبینہ طور پر فوج کے ایک خصوصی دستے ’آسام رائفلز‘ کی حراست میں ایک خاتون منو رمادیوی کی آبرو ریزی کر کے اسے ہلاک کردیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی منی پور میں اس نۓ قانون کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||