فوج سے اختیارات واپس لینے کا فیصلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ریاست منی پور میں حکمراں اتحاد نے کابینہ کو فوج کے خصوصی اختیارات سے متعلق قانون کو واپس لینے کا اختیار دیا ہے۔ یہ فیصلہ پیر کی رات کو حکمران اتحاد کے اجلاس میں ایک متفقہ قرار داد کے ذریعے کیا گیا۔ کلکتہ میں بی بی سی کے نامہ نگار نے اجلاس میں شریک ریاستی اسمبلی کے ایک رکن کے حوالے سے کہا ہے کہ پیر کی رات ہونے والے اجلاس کی کارروائی بہت ہنگامہ خیر رہی۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ اوکرم ابوبی سنگھ کو اس وقت ارکان اسمبلی کے دباؤ کے آگے ہار ماننا پڑی جب کانگریس کے آٹھ اور کیمونسٹ پارٹی کے پانچ ارکان نے حکمراں اتحاد کی حمایت ختم کرنے کی دھمکی دی۔ کابینہ کواب یہ طے کرنا ہے کہ اس فیصلے پر عمل درآمد کس طرح کیا جائے اور فیصلے کا اطلاق کن کن علاقوں پر کیا جائے۔ منی پور کے باشندے اس خصوصی قانون کی واپسی کے لیے کئی ہفتے سے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے منی پور میں شورش کو کچلنے کے نام پر دیئے گئے ان خصوصی اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے۔ نامہ نگار کے مطابق مرکز میں برسراقتدار کانگریس حکومت اس قانون کے تحت فوج کو حاصل اختیارات ختم کرنے کے حق میں نہیں ہے کیونکہ منی پور میں علیحدگی پسندوں کے خلاف آپریشن میں مصروف فوج کو ایسے اختیارات دینا ضروری ہے۔ لیکن بھارتی وزارت داخلہ کے اعلیٰ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے حکمراں اتحاد ریاستی اسمبلی کے ارکان کو خوش کرنے کے لیے قانون کے کچھ حصوص کو واپس لینے پر راضی ہو جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||