منی پور میں ہنگامے شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں مظاہرین نے پوٹا قانون کے خلاف احتجاج کے طور ریاست کی بڑی شاہراہوں کو بند کرنا شروع کر دیا ہے ۔ مظاہرین پوٹا قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ریاست میں لاقانونیت کو روکنے کے لیے اس سخت قانون کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ منی پور میں پوٹا کے خلاف احتجاج اس وقت شروع ہوا جب قانون نافذ کرنے والوں اداروں کے کچھ اہلکاروں نے ایک خاتون کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد اس کو قتل کر دیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے ریاست کے تیس گروپ پوٹا کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور انہوں نے ریاست کی بڑیی شاہراہوں کو بند کرنا شروع کر دیا ہے۔ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے ناگالینڈ اور آسام سے ملنے والی شاہراہوں کو بند کرنا شروع کر دیا ہے۔ مظاہرین نے ان شاہراہوں پر روکاوٹیں کھڑیں کر دی ہیں۔ پولیس کے مطابق ان شاہراہوں پر کوئی بس اورٹرک نہیں چل رہا۔ لیکن کئی مقامات پر کاریں چلتی ہوئی نظر آئی ہیں۔ مظاہرین کے ترجمان کے مطابق شاہراہوں کو دو اکتوبر تک بند رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ مظاہرین میں شامل طالبعلم گروپوں نے ریاست کے سکولوں میں ہندی کی پڑھائی کو روکنے کا اعلان کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت ا ن کے جذبات کا بالکل خیال نہیں کر رہی اور ریاست کے سکولوں میں ہندی کو پڑھائے جانے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ اس سے پہلے منی پور میں علیحدگی پسند گروپوں نے ریاست میں ہندی فلموں کے دکھائے جانے کے خلاف کامیاب مہم چلائی تھی۔ منی پور علیحدگی پسندوں کے بعد دوسری ریاستوں میں بھی علحیدگی پسند گروپوں نے بھی ہندی فلموں کے خلاف مہم چلانی شروع کر دی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||