شمال مشرق میں اتنا تشدد کیوں ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں آسام اور ناگا لینڈ میں تشدد کی اس نئی لہر نے ایک بار پھر ملک کے اس حصے میں پائی جانے والی کشیدگی اور مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ اس علاقے میں اتنا تشدد کیوں ہے؟ دراصل برطانوی حکومت سے پہلے بھارت کی کوئی بھی حکومت ان دور دراز شمالی علاقوں کو کنٹرول کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اسی طرح اس علاقے کی تاریخ میں آزادی کا ایک طویل عرصہ رہا ہے۔اور یوں بھی اس علاقے کے رسم و رواج اور ثقافت ملک کے بقیہ حصے سے بلکل مختلف ہیں۔ مرکزی حکومت نے ناگالینڈ، منی پور، میزورم اور آسام میں ان بغاوتوں کو کچلنے کےلئے فوجی طاقت کا استعمال کیاجس کے جواب میں مزید تشدد بھڑکا۔ حالیہ برسوں میں خطے میں مختلف نسلی گروہوں میں علیحدہ ہوم لینڈ کے مطالبے نے زور پکڑا ہے جس کے نتیجے میں مزید خون خرابہ ہوا۔ خطے میں مختلف نسلی گروہوں کی ملیشیا کے درمیان تشدد میں عام لوگ بھی مارے گئے اور علاقے کے باہر سے وہاں آکر بسنے والوں کے خلاف تشدد نے بھی سنگین شکل اختیار کر لی ہے۔ مرکزی حکومت فوجی کارروائی کے ذریعے باغیوں کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن فوجی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ ان مسائل کے سیاسی حل سے زیادہ تر جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں۔ بھارت کی حکومت نے ان میں سے کئی گروپوں کے ساتھ مذاکرات شروع کئے ہیں اور نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس بار حکومت کا رویہ پہلے سے زیادہ لچکدار تھا۔ حکومت نے علاقے میں اقتصادی حالات کو بہتر بنانے کے لئے فنڈز بھی مہیا کئے لیکن مقامی لوگوں نے شکایت کی ہے کہ ان تک پہنچنے سے پہلے بدعنوانیوں کا شکار ہو گئے۔ 50 سال کی گوریلا جنگ کے بعد اب بہت سے شہری تھک چکے ہیں اور امن کے خواہاں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||