آسام میں گرنیڈ حملہ، چار ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی شمالی مشرقی ریاست آسام میں ملک کے یوم آزادی سے ایک دن قبل ایک گرنیڈ حملے میں چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ آسام کے ریاستی دارالحکومت گوہاٹی سے دو سو ستر کلو میٹر دور مغرب میں واقع ایک قصبے گاوریباری میں ایک سینما ہال میں یہ واقعہ پیش آیا۔ پولیس نے اس حملے کا ذمہ دار علیحدگی پسند باغیوں کو قرار دیا ہے جو بھارت کے یوم آزادی کو ’یوم سیاہ‘ کے طور پر مناتے ہیں۔ پورے بھارت میں سکیورٹی فورسز کو یوم آزادی کی تقریبات کے دوران علیحدگی پسند گروپوں کی ممکنہ تخریبی کارروائیوں کے پیش نظر چوکس کر دیا گیا ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھی فوج اور پولیس کو چوکس کر دیا گیا ہے۔ دارالحکومت دہلی کے گرد جہاں یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم من موہن سنگھ خطاب کرنے والے ہیں سکیورٹی فورسز نے ایک حفاظتی حصار بنایا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دہلی کے لال قعلے میں جس اسٹیج سے من موہن سنگھ تقریر کریں گے اس کے اردگرد ’بلٹ پروف‘ شیشے لگا دیے گئے ہیں۔ یوم آزادی کی تقریبات کے دوران دارالحکومت دہلی کے اوپر پروازوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور ریل اور گاڑیوں کی آمدورفت کو بھی محدود کر دیا گیا ہے۔ آسام میں سینما میں ہونے والے گرنیڈ حملے میں کئی افراد شدید زخمی بھی ہو گئے ہیں جن میں سے چار کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ حملے کے بعد بھگدڑ مچ جانے سے بھی بہت سے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ حملے کے وقت لوگ ایک بنگالی فلم دیکھ رہے تھے۔ علیحدگی پسند اکثر بنگالی بولنے والوں کو نشانہ بناتے ہیں ان کا خیال ہے کہ بنگالی بولنے والوں نے علاقے میں آبادی کا توازن خراب کر دیا ہے۔ علیحدگی پسند ہندی فلموں کا بھی بائیکاٹ کرتے ہیں کیونکہ وہ مقامی ثقافت کے لیے ان فلموں کو ایک خطرہ تصور کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||